Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر توجہ، ایف بی آئی میں غیر ملکی جاسوسی کے خلاف کارروائیاں متاثر ہونے کا انکشاف

ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر توجہ، ایف بی آئی میں غیر ملکی جاسوسی کے خلاف کارروائیاں متاثر ہونے کا انکشاف

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی میں غیر ملکی جاسوسی کے خلاف کام کرنے والے خصوصی یونٹس میں ملک بھر میں عملے کی شدید کمی سامنے آئی ہے،این پی آر کے مطابق ادارے کے 56 فیلڈ دفاتر میں متعدد کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹس میں صرف 50 سے 60 فیصد آسامیاں پُر ہیں، جبکہ کئی دفاتر میں ایسے یونٹس کی تعداد نصف تک کم ہوچکی ہے
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کی جانب سے پرتشدد جرائم، گینگز اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ وسائل دینے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے،تاہم این پی آر نے واضح کیا ہے کہ کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹس کم کرنے یا ان کا کام محدود کرنے کے لیے پٹیل کی جانب سے کوئی مخصوص حکم جاری کیے جانے کا ثبوت نہیں ملا،فیلڈ دفاتر میں کاؤنٹر انٹیلی جنس سے ایجنٹس اور تجزیہ کار ہٹا کر انہیں امیگریشن اور جرائم کے معاملات پر لگایا جا رہا ہے
یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی حکام چین پر امریکی سرکاری راز، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق حاصل کرنے کے لیے مسلسل جاسوسی کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ روس اور ایران کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کو بھی امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم خطرہ سمجھا جاتا ہے،کاؤنٹر انٹیلی جنس کا کام طویل عرصے تک چلنے والی تحقیقات، غیر ملکی جاسوسی نیٹ ورکس کی شناخت اور امریکی رازوں کے تحفظ پر مرکوز ہوتا ہے
ایف بی آئی نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کارروائیاں بدستور مضبوط ہیں اور اس نے مختلف وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے اہلکاروں سمیت اپنے کاؤنٹر انٹیلی جنس ٹاسک فورسز میں 1,500 سے زیادہ اہلکار شامل کیے ہیں،ایف بی آئی نے حالیہ عرصے میں روس، چین، ایران اور شمالی کوریا سے متعلق جاسوسی کے خلاف متعدد گرفتاریوں کو بھی اپنی کامیابی قرار دیا ہے
این پی آر کے مطابق کاؤنٹر انٹیلی جنس سے متعلق تجربہ کار اہلکاروں کی بڑی تعداد کے ادارے سے جانے یا برطرف کیے جانے کے باعث بھی تشویش پیدا ہوئی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض اہلکاروں کو واشنگٹن میں ایف بی آئی ہیڈکوارٹر سے فیلڈ دفاتر منتقل کیا گیا، لیکن ان میں سے کچھ کو غیر ملکی جاسوسی کے بجائے پرتشدد جرائم اور گینگز سے متعلق کام سونپ دیا گیا
ماہرین کے مطابق کاؤنٹر انٹیلی جنس میں کامیابی صرف جاسوسوں کی گرفتاری سے نہیں ناپی جاتی بلکہ کسی غیر ملکی جاسوسی نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب اور ناکام بنانا بھی اس کا اہم حصہ ہے،ایسے معاملات میں تحقیقات کئی سال جاری رہ سکتی ہیں، اس لیے تجربہ کار اہلکاروں کی کمی کے اثرات فوری طور پر سامنے نہ آنے کے باوجود طویل مدت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید