سونے کی 298 سلاخوں کے ساتھ گرفتار سابق امریکی خفیہ اہلکار نے جاسوسی راز افشا کرنے کا اعتراف کرلیا
واشنگٹن:امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اعلیٰ افسر ڈیوڈ جے رش نے وفاقی حکومت سے تقریباً 194 ملین ڈالر کی دھوکہ دہی کے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق رش نے اپنی سرکاری حیثیت اور انتہائی حساس سکیورٹی کلیئرنس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑوں ڈالر سرکاری خزانے سے نکلوائے اور ان سے سونا، مہنگی جائیدادیں، گھڑیاں اور لگژری گاڑیاں خریدیں
49 سالہ رش کو گرفتار کیے جانے کے بعد تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے 2025 کے آخر میں ایک غیر ملکی اہلکار کو امریکی حکومت کے ایک خفیہ انسانی انٹیلی جنس ذریعے سے متعلق ایسی معلومات فراہم کیں جو اس ذریعے اور اس کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اہلکاروں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی تھیں،محکمہ انصاف کے مطابق رش نے اپنی درخواستِ جرم میں اس معلومات کے افشا کا اعتراف کیا ہے
رش کے گھر کی 19 مئی کو تلاشی کے دوران 298 سونے کی سلاخیں، تقریباً 2.1 ملین ڈالر نقد، 104,795 یورو اور درجنوں قیمتی گھڑیاں برآمد ہوئیں،حکام کے مطابق صرف سونے کی ان سلاخوں کی خریداری پر حکومت کے تقریباً 46 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے،رش نے سرکاری رقم سے تقریباً 145 ملین ڈالر کی منتقلیاں کیں جنہیں بعد میں مہنگی جائیدادوں، گھڑیوں اور دیگر اثاثوں کی خریداری میں استعمال کیا گیا
محکمہ انصاف کے مطابق رش نے ایک جعلی سرکاری پروگرام اور دیگر فرضی اختیارات کا سہارا لے کر سرکاری فنڈز حاصل کیے،ان کے پاس ٹاپ سیکرٹ/حساس معلومات تک رسائی کی کلیئرنس تھی اور حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم اور فوجی تجربے سے متعلق بھی جھوٹ بولا تھا
رش نے وائر فراڈ کی ایک دفعہ میں جرم قبول کیا ہے،انہیں 28 جنوری 2027 کو سزا سنائی جائے گی اور اس جرم میں زیادہ سے زیادہ 20 سال قید ہو سکتی ہے،ان کے سونے، نقد رقم، جائیدادوں، 30 قیمتی گھڑیوں اور دو بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کو بھی ضبط کیا جائے گا،سی آئی اے کے مطابق ادارے نے اندرونی تحقیقات کے بعد معاملہ ایف بی آئی کے حوالے کیا تھا، جبکہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل سے مزید تحقیقات بھی طلب کی گئی ہیں





