ایمسٹرڈیم میں ڈھائی لاکھ افراد کا فلسطین کے حق میں تاریخی احتجاج، ’فری فلسطین‘ کے نعروں سے شہر گونج اٹھا
نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں فلسطین اور غزہ کے حق میں ہونے والا ایک بڑا احتجاج لاکھوں افراد کی شرکت کے باعث ملک کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار ہونے لگا،5 اکتوبر 2025 کو ہونے والے ’’ریڈ لائن‘‘ احتجاج میں منتظمین کے مطابق تقریباً 250,000 افراد شریک ہوئے، جبکہ مقامی پولیس نے بھی اس اندازے کو قابلِ اعتبار قرار دیا
مظاہرین کی بڑی تعداد نے سرخ لباس پہن رکھا تھا،منتظمین کے مطابق سرخ رنگ اس ’’ریڈ لائن‘‘ کی علامت تھا جسے ان کے خیال میں غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیل کے بارے میں نیدرلینڈز کی پالیسی نے عبور کر لیا ہے،میوزیم پلین سے شروع ہونے والے احتجاج میں فلسطینی پرچموں کی بھرمار تھی اور مظاہرین نے ’’Free, Free Palestine‘‘ اور ’’Stop the Genocide‘‘ سمیت مختلف نعرے لگائے،رائٹرز نے مظاہرین کے ایسے پلے کارڈز بھی رپورٹ کیے جن پر ’’Israel, shame on you‘‘ اور ’’We are not free until Gaza is free‘‘ جیسے الفاظ درج تھے
یہ مظاہرہ محض ایک مرکزی جلسے تک محدود نہیں رہا بلکہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد نے ایمسٹرڈیم کی سڑکوں پر تقریباً 6 کلومیٹر کا مارچ کیا،میوزیم پلین اور اس کے اردگرد کی سڑکیں لوگوں سے بھر گئیں اور بڑی تعداد میں مظاہرین کو مارچ میں شامل ہونے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا،مقامی میڈیا کے مطابق ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ منتظمین نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی لوگوں کو مارچ شروع کرنے کی اپیل کر دی
احتجاج کا بنیادی مطالبہ نیدرلینڈز کی حکومت سے تھا کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے، غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور فوجی تعاون پر سخت اقدامات کرے اور فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کی راہ ہموار کرے،احتجاج میں شریک تنظیموں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، آکسفیم نوویب اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل تھیں
اس احتجاج کی ایک نمایاں بات یہ بھی تھی کہ مظاہرین میں مختلف عمر اور پس منظر کے لوگ شامل تھے،بعض خاندان بچوں کے ساتھ آئے، جبکہ متعدد یہودی تنظیموں اور کارکنوں نے بھی احتجاج کی حمایت کی،احتجاج کے دوران ’’ہم ہی ریڈ لائن ہیں‘‘ جیسے نعرے بھی سنائی دیے
مظاہرے کے منتظمین نے اسے نیدرلینڈز میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے سب سے بڑے احتجاجوں میں شمار کیا، اس سے قبل اسی ’’ریڈ لائن‘‘ مہم کے تحت دی ہیگ میں مئی میں تقریباً ایک لاکھ اور جون میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے شرکت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا،ایمسٹرڈیم کا مظاہرہ ان دونوں سے بھی بڑا تھا
ایمسٹرڈیم کی سڑکوں پر سرخ لباس میں موجود ڈھائی لاکھ کے قریب افراد، فلسطینی پرچموں اور غزہ کے حق میں نعروں نے نیدرلینڈز کی حکومت کے لیے ایک واضح سیاسی دباؤ ضرور پیدا کیا، اگرچہ اس احتجاج کے وقت حکومت نے فوری طور پر اپنی اسرائیل پالیسی میں کسی بنیادی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا





