بین الاقوامی شہرت یافتہ ثالث کی کارکردگی ؛پاکستان کرکٹ کے حقوق صرف 35 کروڑ میں، براڈکاسٹرز کی بے اعتنائی اور زمبابوے نے بھی کھیلنے سے انکار کردیا
پاکستان کرکٹ کے لیے ایک ایسے وقت میں مالی اور تجارتی خطرے کی گھنٹی بجی ہے جب قومی ٹیم کی ہوم سیریز کے نشریاتی حقوق مقررہ قیمت کے تقریباً نصف میں فروخت ہوئے اور صرف ایک بولی دہندہ سامنے آیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہوم انٹرنیشنل میچز کے نشریاتی حقوق کے لیے 600 ملین روپے کی ریزرو پرائس مقرر کی تھی، لیکن ٹینڈر میں واحد بولی سرکاری ٹی وی کی طرف سے آئی اور حقوق صرف 350 ملین روپے میں فروخت ہوگئے،مطلب بولی کا بندوبست کرنے والوں کو خود ہی تنہا بولی لگانی پڑی ، معاہدے میں مجموعی طور پر 25 میچز شامل ہیں، جن میں 5 ٹیسٹ، 14 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل شامل ہیں
یہ فرق معمولی نہیں،PCB کی مقرر کردہ 600 ملین روپے کی ریزرو پرائس کے مقابلے میں حاصل ہونے والی رقم 250 ملین روپے کم ہے، یعنی بورڈ اپنی مقرر کردہ کم از کم قیمت کے تقریباً 58 فیصد پر حقوق فروخت کرنے پر مجبور ہوا
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نجی براڈکاسٹرز نے اس مرتبہ بولی میں حصہ ہی نہیں لیا،رپورٹ کے مطابق تین بڑے براڈکاسٹرز کے ذمے پہلے ہی PCB کی بھاری رقوم واجب الادا ہیں،انہیں ٹینڈر میں شرکت سے روکا نہیں گیا تھا، لیکن انہوں نے خود حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا،پاکستان کرکٹ کے بیشتر حقوق حاصل کرنے والی ایک کمپنی نے بھی عدم دلچسپی کا اظہار کیا
اس صورتحال نے پاکستان کرکٹ کے اس تجارتی ماڈل پر سوال اٹھا دیے ہیں جس میں چند سال پہلے قومی ٹیم کے میچز کے حقوق کے لیے براڈکاسٹرز کے درمیان سخت مقابلہ ہوا کرتا تھا،اس مرتبہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کئی کمپنیاں کم قیمت پیش کر رہی تھیں، بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ نجی مارکیٹ سے مقابلہ کرنے والا کوئی بڑا امیدوار ہی سامنے نہیں آیا
رپورٹس میں اس عدم دلچسپی کی ایک وجہ قومی ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی اور بعض ہوم میچز میں شائقین کی محدود دلچسپی کو بھی قرار دیا گیا ہے، خصوصاً آئرلینڈ اور سری لنکا کے خلاف مقابلوں میں،اس کے علاوہ PCB نے اس ٹینڈر میں کنسورشیم کی اجازت بھی نہیں دی تھی
یہ صورتحال اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ اسی سال پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی اور لائیو اسٹریمنگ حقوق کا چار سالہ معاہدہ 26.11 ارب روپے کی ریکارڈ پیشکش پر ہوا تھا،PCB نے اسے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا براڈکاسٹ رائٹس معاہدہ قرار دیا تھا
یعنی ایک طرف PSL کی تجارتی قدر میں ریکارڈ اضافہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف قومی ٹیم کی 25 ہوم میچز پر مشتمل مکمل ونڈو کے حقوق کے لیے نجی براڈکاسٹرز کا میدان سے تقریباً غائب ہو جانا پاکستان کرکٹ کی مارکیٹ ویلیو کے بارے میں ایک مختلف اور تشویش ناک تصویر پیش کرتا ہے
اسی دوران پاکستان کے آئندہ شیڈول کو بھی دھچکا پہنچا ہے،جنوری 2027 میں پاکستان، زمبابوے اور آئرلینڈ کے درمیان مجوزہ ون ڈے سہ فریقی سیریز کے بارے میں رپورٹ سامنے آئی ہے کہ زمبابوے کی شرکت تجارتی وجوہات کی بنا پر مشکل ہوگئی ہے،زمبابوے اور پاکستان کے حکام متبادل وقت تلاش کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ سہ فریقی سیریز کے بجائے پاکستان اور آئرلینڈ کی باہمی وائٹ بال سیریز کرائی جائے
اہم بات یہ ہے کہ اسے ابھی مکمل طور پر “زمبابوے نے پاکستان آنے سے انکار کردیا” کہنا درست نہیں ہوگا،دستیاب رپورٹس کے مطابق معاملہ تجارتی وجوہات کی بنا پر متاثر ہوا ہے اور دونوں بورڈز متبادل ونڈو پر بات کر رہے ہیں، جبکہ PCB نے ابھی حتمی منسوخی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم آزاد و غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے زمبابوے نے پاکستان سے کھیلنے کے لیے صاف انکار کردیا ہے اور پی سی بی شرمندگی مٹانے کے لیے کہانیاں سنا رہا ہے
شیڈول کے مطابق سری لنکا اور انگلینڈ نے 9 اکتوبر سے 21 نومبر تک پاکستان میں کھیلنا ہے، جس میں سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سیریز اور انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے سہ فریقی سیریز شامل ہے
اسی طرح ICC کے مطابق پاکستان میں 2027 تک عالمی مقابلوں کے نشریاتی حقوق کے لیے پاکستان ٹیلی ویژن اور Myco کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، جبکہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے 2026-27 سیزن کے تقریباً 250 میچز کے لائیو اسٹریمنگ حقوق Tapmad نے حاصل کیے ہیں
لہٰذا صرف ایک ٹینڈر یا ایک سیریز کی بنیاد پر پاکستانی کرکٹ کے مکمل زوال کا فیصلہ شاید قبل از وقت ہو، لیکن 600 ملین روپے کی ریزرو پرائس کے مقابلے میں صرف 350 ملین روپے کی بولی، نجی براڈکاسٹرز کی عدم شرکت، واجب الادا رقوم اور زمبابوے کے تجارتی بنیادوں پر مجوزہ سیریز سے پیچھے ہٹنے کی اطلاعات ایک ہی سمت میں اشارہ ضرور کرتی ہیں،پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے چیلنجز اب صرف میدان میں نہیں، بلکہ اس کے کاروباری ماڈل، ناظرین کی دلچسپی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی کشش سے بھی جڑے ہوئے ہیں، اس سارے تناظر میں کرکٹ کے بڑے تجزیہ نگار نجی محفلوں میں کہتے سنے جاتے ہیں “ جنگ کرنے جنگ رکوانے کے عالمی ماہرین ہی جب کھیل کے میدانوں کو بھی کنٹرول کریں گے تو اس سے زیادہ برے کی توقع رکھنی چاہیے اور کرکٹ کے ساتھ ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے “





