دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا صرف طاقت کافی ہے؟ کے پی کے عوام کو شریک کیے بغیر کامیابی ممکن ہے؟، اکرم راجہ اور سہیل آفریدی نے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ بتادی
تجزیاتی رپورٹ: آفاق فاروقی
اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور اس بار اختلاف کا مرکزی نکتہ صرف سیاسی قیدیوں یا احتجاج کا معاملہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی کا اختیار اور طریقہ کار بن کر سامنے آیا ہے،پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے مطابق مذاکرات میں بنیادی اختلاف اس بات پر ہوا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں وفاقی اور صوبائی حکومت کے باہمی اتفاق سے ہونی چاہئیں اور کے پی اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے،ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے مقامی آبادی کی حمایت اور زمینی انٹیلی جنس بنیادی اہمیت رکھتی ہے
حکومت اس مؤقف کو سیاسی عذر قرار دے رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی گزشتہ تین برس سے مشاورت کا یہی مؤقف دہراتی رہی ہے اور اب اسے اپنے سیاسی مفاد کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہی ہے،حکومت کا سوال یہ ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے تو وہ وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیوں نہیں کرتی
لیکن اس سیاسی الزام تراشی سے الگ ایک بنیادی سوال موجود ہے جس کا جواب صرف سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں انسداد شورش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تجربات سے تلاش کیا جا سکتا ہے،کیا کسی ایسے علاقے میں جہاں دہشت گردی برسوں سے جاری ہو، صرف مرکزی حکومت اور سکیورٹی ادارے اوپر سے حکمت عملی نافذ کرکے پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں، یا مقامی حکومت، سیاسی قیادت اور آبادی کو اس حکمت عملی کا حصہ بنانا ضروری ہے؟
بین الاقوامی سکیورٹی مطالعات میں اس سوال کا جواب خاصا واضح ہے،جدید انسداد شورش کے نظریات میں ریاست کی فوجی طاقت کے ساتھ مقامی آبادی کا اعتماد، مقامی معلومات اور ریاستی اداروں کی قانونی و سیاسی ساکھ کو فیصلہ کن عناصر سمجھا جاتا ہے،امریکی فوجی اور سکیورٹی مطالعات میں بھی آبادی کو محض ایسی قوت نہیں سمجھا جاتا جسے فوجی کارروائی کے ذریعے محفوظ کیا جائے، بلکہ اسے اس جنگ کا مرکزی فریق تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ مقامی لوگ ہی دہشت گردوں کی نقل و حرکت، نیٹ ورک، پناہ گاہوں اور مقامی روابط کے بارے میں وہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو باہر سے آنے والی انٹیلی جنس ہمیشہ حاصل نہیں کر سکتی
خیبر پختونخوا کے معاملے میں یہ بحث محض نظری نہیں رہی۔ 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جس میں خیبر پختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی، ریاستی کارروائیوں اور مقامی ردعمل کا جائزہ لیا گیا، اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کا بحران انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی مؤثریت کو متاثر کر رہا ہے،تحقیق میں مقامی ماہرین، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور دیگر متعلقہ افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر کہا گیا کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں، نقل مکانی، شہری نقصانات اور کمزور حکمرانی نے ریاستی پالیسیوں کے بارے میں شکوک پیدا کیے ہیں
اس تحقیق کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کو صرف ایک فوجی مسئلے کے طور پر دیکھنا مسئلے کو محدود کر دیتا ہے،تحقیق کے مطابق سابق قبائلی اضلاع میں ریاست کی ساکھ اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کیے بغیر انسداد شورش کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی،اس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں ریاستی حکمت عملی نے فوجی کارروائی کے مرحلے پر زیادہ توجہ دی، لیکن اس کے ساتھ حکمرانی، ترقی، مقامی اداروں اور عوامی اعتماد کی تعمیر پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی
یہاں ایک اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے،مقامی آبادی سے مشاورت کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہر سیاسی جماعت یا ہر مقامی گروہ کو ویٹو کا اختیار دے دیا جائے،کسی بھی ریاست کو مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے،لیکن اس کارروائی کی حکمت عملی، ترجیحات، مقامی حالات اور شہری تحفظ کے بارے میں ان لوگوں کو شریک کرنا جنہیں براہ راست اس جنگ کا سامنا ہے، ریاستی اختیار کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس کی ساکھ مضبوط کر سکتا ہے
عراق کے شہر موصل پر کی گئی ایک حالیہ علمی تحقیق بھی اسی نکتے کو تقویت دیتی ہے،تحقیق نے دکھایا کہ شہری نقصانات اور فوجی کارروائی کے طریقہ کار میں فرق نے مقامی آبادی کے نزدیک سکیورٹی فورسز کی ساکھ اور قانونی و اخلاقی حیثیت کے تصور کو نمایاں طور پر متاثر کیا،یعنی فوجی طاقت کی موجودگی بذات خود کافی نہیں، شہری یہ بھی دیکھتے ہیں کہ طاقت کس طرح استعمال کی جا رہی ہے اور کیا ریاست انہیں تحفظ دینے والی قوت محسوس ہوتی ہے یا خطرے کا ایک اور ذریعہ
خیبر پختونخوا کے بارے میں یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ وہاں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی ریاست کو ایک پیچیدہ سماجی ماحول کا سامنا ہے،مقامی پولیس، قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتیں، منتخب حکومت، مذہبی رہنما اور عام شہری سب اس تنازعہ کے براہ راست فریق ہیں،اگر ان میں سے ایک بڑا حصہ یہ محسوس کرے کہ فیصلے اسلام آباد میں بیٹھ کر کیے جا رہے ہیں اور ان کے نتائج انہیں بھگتنا ہوں گے تو ریاست کو وہ مقامی تعاون حاصل نہیں ہوگا جو مؤثر انٹیلی جنس اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ضروری ہے
یہی وجہ ہے کہ سلمان اکرم راجا کا یہ مؤقف کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی مقامی آبادی کی حمایت اور زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونی چاہیے، اگر اسے محض پی ٹی آئی کا سیاسی مؤقف سمجھ کر مسترد کر دیا جائے تو عالمی انسداد شورش کے تجربات کا ایک اہم حصہ نظر انداز ہو جاتا ہے،تاہم اسی اصول کا دوسرا رخ بھی ہے: صوبائی حکومت بھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ وفاقی ریاست کی سلامتی کی ذمہ داری صرف اس لیے محدود ہو جائے کہ صوبے میں اس کی اپنی حکومت موجود ہے،دہشت گردی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کا میدان مقامی ہے
خیبر پختونخوا میں جاری حالیہ تشدد بھی اس بحث کو مزید فوری بناتا ہے،ستمبر کے آخر میں ٹانک میں پولیس اہلکاروں پر حملے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے سمیت متعدد واقعات نے ظاہر کیا کہ خطرہ محض سیاسی بحث نہیں بلکہ حقیقی اور مسلسل سکیورٹی بحران ہے
اس لیے اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ اختیار وفاق کے پاس ہونا چاہیے یا صوبے کے پاس،اصل سوال یہ ہے کہ اختیار استعمال کرتے ہوئے اعتماد کیسے پیدا کیا جائے،اگر وفاقی حکومت کہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے تو اسے صوبائی حکومت اور مقامی سیاسی قیادت کو اس عمل میں شریک کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے،اسی طرح اگر صوبائی حکومت مقامی مشاورت کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عملی ذمہ داری، انٹیلی جنس تعاون اور پولیس و انسداد دہشت گردی اداروں کی استعداد بڑھانے میں کیا کردار ادا کرے گی
دنیا بھر کے انسداد شورش کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ دہشت گردوں کو شکست صرف بندوق سے نہیں دی جاتی،ان کے لیے مقامی پناہ گاہ، معلومات، خاموش تعاون اور خوف کی وہ فضا ختم کرنا پڑتی ہے جس میں وہ زندہ رہتے ہیں،اس کے لیے ریاست کو مقامی آبادی سے اعتماد کا رشتہ قائم کرنا پڑتا ہے،افغانستان، عراق اور پاکستان کے تجربات پر ہونے والی تحقیق میں بار بار یہی مسئلہ سامنے آیا ہے کہ جب ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا ہے تو عسکری کامیابی بھی پائیدار سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو پاتی
چنانچہ جمہوری ریاست میں یہ سوال جائز ہے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا سب سے بھاری بوجھ خیبر پختونخوا کے شہریوں کو اٹھانا ہے تو ان کی منتخب حکومت اور صوبائی اسمبلی کو اس پالیسی کی تشکیل میں حقیقی آواز کیوں نہ دی جائے؟ وفاقی حکومت کو کارروائی کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے، فوج کو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا آئینی و ریاستی مینڈیٹ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد کوئی انتظامی تفصیل نہیں بلکہ خود حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے
مذاکرات کا موجودہ تعطل اسی بڑے سوال کو سامنے لے آیا ہے،کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف یہ طے کرنے کا نام ہے کہ کارروائی کون کرے گا، یا یہ بھی طے کرنا ضروری ہے کہ جس زمین پر جنگ لڑی جا رہی ہے وہاں کے لوگوں کو اس جنگ کا شریک کیسے بنایا جائے؟ اگر ریاست کا مقصد صرف دہشت گردوں کو مارنا نہیں بلکہ دہشت گردی کو دوبارہ جنم لینے سے روکنا ہے تو دوسرے سوال کو نظر انداز کرنا شاید پہلے سوال کا مستقل جواب نہیں بن سکتا، اور اگر جیسا کے اکرم راجہ کے ساتھ کے پی کے وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ دھشت گردی میں مقامی صوبائ تعاون کی شرط کو وفاق کی جانب سے مسترد کیے جانا ہی اصل وجہ ہے تو پھر کے پی پولیس کے ساتھ مقامی حلقوں کے ذرائع کی جانب سے اس الزام پر تشویش بڑھ جاتی ہے کہ خطے کی انتہا پسندی دھشت گردی میں اپنے ہی لوگ ملوث ہیں کہ جب ایسے دھشت گرد گرفتار ہوتے ہیں تو علاقے کے سیکٹر کمانڈر زبردستی انہیں چھڑا کر لے جاتے ہیں اور انہی الزامات کی بنیاد پر کے پی پولیس نے بڑے پیمانے پر پولیس کمیٹی بنا کر بہت سے علاقوں میں اوپر سے آئے احکامات کو لینا سننا ہی چھوڑ دیا ہے کہ انکا کہنا ہے اگر صوبے سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو فوج کی جگہ پولیس اور علاقے کی مقامی نتظامیہ کو اختیارات دینے ہونگے






