Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہشت گردی اور بدامنی پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئیں

دہشت گردی اور بدامنی پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئیں

پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے صرف معاشی اصلاحات کافی نہیں بلکہ امن و سلامتی، سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور مضبوط اداروں کا ہونا بھی ضروری ہے ایک تجزیے کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور بدامنی سرمایہ کاری، تجارت، سیاحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 2026 کے عالمی دہشت گردی اشاریے میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیے جانے اور ملک میں عسکریت پسندی میں اضافے نے معاشی امکانات کو بھی متاثر کیا ہے خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کے نتیجے میں 2025 کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ حالیہ کوہاٹ حملے میں 37 افراد مارے گئے
تجزیے کے مطابق غیر ملکی کاروباری افراد اور سرمایہ کار سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کے دورے منسوخ کر رہے ہیں جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری سفری ہدایات بھی غیر ملکی شہریوں کو پاکستان آنے سے روک سکتی ہیں اس صورتحال سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے
رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کے موجودہ چیلنج کو گزشتہ کئی دہائیوں کے حالات سے جوڑا گیا ہے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بعد ملک میں اسلحے، منشیات، فرقہ وارانہ تشدد اور شدت پسند گروہوں کے پھیلاؤ جیسے مسائل پیدا ہوئے بعد میں 9/11 کے بعد پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم میدان بن گیا
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد یہ توقع کی گئی تھی کہ سرحد پار دہشت گردی میں کمی آئے گی، تاہم تجزیے کے مطابق ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا اس صورتحال نے پاکستان کی مغربی سرحد، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے
بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہیں شاہراہوں، ریلوے، پلوں، گیس پائپ لائنوں اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں کان کنوں، مزدوروں اور سرکاری افسران پر حملوں اور اغوا کے واقعات نے بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچایا ہے
چینی شہریوں اور کمپنیوں کے خلاف حملوں نے بھی پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور سی پیک سے متعلق بعض سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں گوادر کی صنعتی صلاحیت بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی کیونکہ غیر محفوظ ماحول میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے اپنے عملے کو تعینات کرنا مشکل ہے
تجزیے میں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے صرف سکیورٹی کارروائیوں پر انحصار کے بجائے تعلیم، صحت، صاف پانی، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور مقامی اداروں کی مضبوطی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اس مؤقف کے مطابق معاشی مواقع کی کمی اور مقامی محرومیاں عسکریت پسند گروہوں کے لیے بھرتی کے امکانات بڑھا سکتی ہیں
پاکستان کے لیے افغانستان، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کو بھی معاشی مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے گوادر وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کے لیے تجارتی اور رسد کا مرکز بن سکتا ہے، جبکہ علاقائی رابطوں سے پاکستان کی برآمدات، ٹرانسپورٹ، گودام، بینکاری، انشورنس، آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں
تجزیے کے مطابق معاشی اصلاحات کو امن کے انتظار میں روکنے کے بجائے مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں تبدیلی، ٹیکس نظام، نجکاری، برآمدات میں تنوع اور انسانی وسائل کی ترقی کا عمل جاری رکھنا چاہیے، تاہم ان اقدامات کے ساتھ سکیورٹی کے مسائل کم کرنا بھی ضروری ہے
مجموعی طور پر تجزیے میں سکیورٹی اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیا گیا ہے بدامنی سرمایہ کاری اور تجارت کو محدود کرتی ہے جبکہ کمزور معاشی مواقع اور ادارہ جاتی مسائل بھی عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اس لیے پاکستان کے لیے امن، ترقی، روزگار اور علاقائی معاشی روابط کو ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھانا اہم قرار دیا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید