کراچی میں خواتین کے لیے بس سے اترنے کے بعد گھر تک کا سفر بھی خطرناک
کراچی میں کام کرنے والی خواتین کے لیے روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر صرف بس یا منی بس میں بیٹھنے تک محدود نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کے لیے آخری چند منٹ بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں طویل انتظار، بھیڑ بھری گاڑیوں، خراب سڑکوں اور غیر محفوظ انفراسٹرکچر کے بعد خواتین کو بس اسٹاپ سے گھر تک پہنچنے کے دوران ہراسانی، جرائم، ٹریفک حادثات اور دیگر خطرات کا سامنا رہتا ہے
کراچی کی ایک خاتون نے بتایا کہ دفتر سے تقریباً 5 بجے نکلنے کے بعد بس کے انتظار میں بعض اوقات آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے، جبکہ بس کا سفر مزید 1 سے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے بس سے اترنے کے بعد گھر تک پہنچنے کے لیے مزید تقریباً 15 منٹ پیدل چلنا پڑتا ہے اس دوران خراب روشنی والی سڑکیں، تیز رفتار گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں، زیر تعمیر راستے اور دیگر خطرات روزمرہ سفر کو مشکل بنا دیتے ہیں
کام کرنے والی خواتین کے ایک غیر رسمی سروے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اپنے تجربات بیان کیے ان میں دفاتر، بینکوں، اسکولوں، اسپتالوں، دکانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کے علاوہ گھریلو ملازمین بھی شامل تھیں ان خواتین کے مطابق سفر کے دوران تحفظ کا مسئلہ بس میں سوار ہونے سے لے کر گھر پہنچنے تک برقرار رہتا ہے
کئی خواتین نے بتایا کہ بس اسٹاپ سے گھر تک کا 5 سے 10 منٹ کا فاصلہ بھی خاص طور پر شام اور رات کے وقت خوف کا باعث بنتا ہے۔ 2 خواتین نے بتایا کہ انہیں بغیر ہیڈ لائٹ کے موٹر سائیکلوں نے ٹکر ماری، جبکہ گلشن اقبال میں ایک فزیوتھراپسٹ خاتون سے گھر جاتے ہوئے موبائل فون چھین لیا گیا
پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے پل بھی کئی مقامات پر مسئلہ بن جاتے ہیں خراب حالت، ناکافی روشنی اور پلوں کے اردگرد منشیات استعمال کرنے والے افراد کی موجودگی خواتین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے ایک نجی اسپتال میں کام کرنے والی خاتون نے بتایا کہ پیدل پل عبور کرتے ہوئے اسے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا بعض خواتین کا کہنا تھا کہ بڑے اشتہاری بورڈز راستے کا نظارہ محدود کر دیتے ہیں، جس کے باعث وہ پل استعمال کرنے کے بجائے مصروف سڑک عبور کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، حالانکہ اس میں ٹریفک حادثے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے کھلے مین ہول اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں نظر نہیں آتیں ایک خاتون نے بتایا کہ اپنی بیٹی کو بس اسٹاپ سے لینے جاتے ہوئے وہ کھلے مین ہول میں گر گئی اور شدید زخمی ہوئی ان کے مطابق زیر تعمیر جگہ پر خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے نہ مناسب نشان موجود تھے، نہ حفاظتی رکاوٹیں اور نہ ہی مناسب روشنی
بعض خواتین ان خطرات سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں ایک ہی علاقے میں رہنے والی فیکٹری کی خواتین کام سے واپسی پر ایک ساتھ سفر کرتی ہیں اور بس اسٹاپ سے گھر تک کا فاصلہ رکشہ کرائے پر لے کر طے کرتی ہیں کچھ خواتین گروپ کی صورت میں فیکٹری سے نکلتی ہیں اور اپنے علاقے یا راستے میں جانے والے ڈرائیوروں سے لفٹ لے لیتی ہیں
ایک یونیورسٹی طالبہ نے بتایا کہ وہ بس سے اترنے کے بعد گھر پہنچنے کے لیے موٹر سائیکل پر سواری فراہم کرنے والی سروس استعمال کرتی ہے کیونکہ یہ رکشے کے مقابلے میں کم خرچ پڑتی ہے۔ تاہم کم آمدنی والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے اضافی کرایہ برداشت کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا، اس لیے انہیں مصروف سڑک سے اترنے کے بعد باقی راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے
خواتین کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدورفت، ذاتی تحفظ اور معاشی حالات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں جو خاتون آخری فاصلے کے لیے اضافی سواری کا کرایہ ادا نہیں کر سکتی، اسے بعض اوقات مالی مجبوری اور ذاتی تحفظ میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے
ایک ساتھ سفر کرنا خواتین کے لیے تحفظ کا ایک غیر رسمی ذریعہ بھی بن گیا ہے مسلسل ایک ہی راستے پر سفر کرنے والی خواتین ایک دوسرے سے واقف ہو جاتی ہیں اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں بعض خواتین کے مطابق بس اسٹاپ اور روزمرہ سفر کے دوران بننے والے یہ تعلقات انہیں تنہائی، خوف اور بے چینی سے نمٹنے میں بھی مدد دیتے ہیں
یوں کراچی میں خواتین کے لیے سفر اس وقت ختم نہیں ہوتا جب بس یا منی بس آخری اسٹاپ پر پہنچتی ہے اصل مشکل اکثر اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب انہیں خراب سڑکوں، کم روشنی، ٹریفک، جرائم کے خدشات اور مالی مشکلات کے درمیان آخری چند منٹ کا سفر پیدل یا کسی متبادل سواری کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے





