Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنیل یونیورسٹی کا 2024 کا مبینہ اجتماعی زیادتی کیس دوبارہ کھل گیا، دو سال بعد ایک مقدمے نے تفتیش پر ہی سوال اٹھا دیے

کارنیل یونیورسٹی کا 2024 کا مبینہ اجتماعی زیادتی کیس دوبارہ کھل گیا، دو سال بعد ایک مقدمے نے تفتیش پر ہی سوال اٹھا دیے

امریکا کی معروف Cornell University میں 2024 میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کی فوجداری تحقیقات نیویارک کے ٹامپکنز کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے دوبارہ شروع کر دی ہیں،یہ پیش رفت ایک سابق طالبہ کی جانب سے ستمبر 2026 میں دائر کیے گئے سول مقدمے کے بعد ہوئی، جس میں اس نے الزام عائد کیا کہ اسے چی فائی برادری کے گھر میں منشیات اور شراب کے اثر میں لانے کے بعد سات ارکان نے کئی گھنٹوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
مبینہ واقعہ اکتوبر 2024 کا ہے، جب خاتون کی عمر 20 برس تھی،سول مقدمے میں الزام ہے کہ اسے کیٹامین سمیت منشیات استعمال کرنے پر آمادہ کیا گیا اور بعد میں متعدد افراد نے اس کی جنسی زیادتی کی،خاتون، جسے مقدمے میں صرف ’’جین ڈو‘‘ کہا گیا ہے، نے واقعے کے تقریباً تین ہفتے بعد کارنیل پولیس سے رابطہ کیا تھا،اس کے وکیل کے مطابق بعد میں اسے کسی ایسے تفتیش کار نے دوبارہ نہیں سنا جو جنسی زیادتی کے متاثرین سے خصوصی پوچھ گچھ کی تربیت رکھتا ہو
اصل تنازعہ یہاں سے شروع ہوتا ہے،ٹامپکنز کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی میتھیو وان ہاؤٹن کے مطابق نومبر 2024 میں خاتون کے حلفیہ بیان میں جنسی سرگرمی اور منشیات کے استعمال کو رضاکارانہ اور رضامندانہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ موجودہ سول مقدمے میں اس نے بالکل مختلف تفصیل پیش کی ہے، جس میں بے اختیار کیے جانے اور اجتماعی زیادتی کا الزام شامل ہے،پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ان کا دفتر اب اس تضاد اور نئے سامنے آنے والے شواہد کا دوبارہ جائزہ لے گا
دوسری طرف خاتون کے وکیل تھامس جیفرا اس وضاحت کو مسترد کرتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ سے 2024 میں مناسب انداز میں دوبارہ پوچھ گچھ ہی نہیں کی گئی اور تفتیش میں ایک چیٹ گروپ کے پیغامات سمیت اہم شواہد پر مناسب کارروائی نہیں ہوئی،پراسیکیوٹر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کے دفتر نے اس وقت آزادانہ طور پر مکمل تحقیقات نہیں کی تھیں بلکہ کارنیل پولیس کی تفتیش پر انحصار کیا تھا
کارنیل یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی داخلی کارروائی کے تحت معاملے کی مکمل تحقیقات کی، سماعت ہوئی اور ملوث طلبہ کے خلاف معطلی اور اخراج سمیت مختلف تادیبی اقدامات کیے گئے،یونیورسٹی نے چی فائی کے متعلقہ باب کو کیمپس سے بھی بدستور خارج کر رکھا ہے،تاہم وفاقی رازداری کے قوانین کے باعث یونیورسٹی نے ہر طالب علم کے خلاف کیے گئے مخصوص اقدامات کی مکمل تفصیل ظاہر نہیں کی
اس کیس میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی نامزد طالب علم پر اس مبینہ جرم میں فوجداری فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوئے،کم از کم ایک مدعا علیہ کے وکیل نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل نے خاتون کو چھوا تک نہیں اور اس کے خلاف موجود شواہد اس کے مؤکل کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں
اب ڈسٹرکٹ اٹارنی کا دفتر معاملہ گرینڈ جیوری کے سامنے رکھنے کی تیاری کر رہا ہے،گرینڈ جیوری نئی شہادت، خاتون کا بیان اور سول مقدمے میں سامنے آنے والے دیگر شواہد دیکھ کر یہ طے کرے گی کہ کسی فرد کے خلاف فوجداری فردِ جرم عائد کرنے کی قانونی بنیاد بنتی ہے یا نہیں
اس واقعے نے امریکی جامعات میں ایک بنیادی سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے،اگر کسی طالبہ کی جانب سے جنسی زیادتی کی شکایت سامنے آئے تو یونیورسٹی کی داخلی کارروائی اور ریاستی فوجداری تحقیقات کے درمیان ذمہ داری کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ کارنیل کیس میں دو سال بعد دوبارہ شروع ہونے والی تحقیقات اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں کہ اب معاملہ صرف مبینہ حملے کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ پہلی مرتبہ شکایت سامنے آنے کے بعد پولیس، یونیورسٹی اور پراسیکیوٹر کے نظام نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا، یہاں واضع رہے
چی فائی برادری امریکی جامعات کی قدیم طلبہ برادریوں میں شمار ہوتی ہے اور کارنیل یونیورسٹی میں اس کی شاخ بھی ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے،امریکی جامعات میں ایسی برادریاں طلبہ کو رہائش، سماجی تعلقات اور باہمی روابط کا ایک منظم حلقہ فراہم کرتی رہی ہیں، لیکن کارنیل میں چی فائی کے گھر سے متعلق 2024 میں ایک طالبہ کی طرف سے اجتماعی زیادتی کا الزام سامنے آنے کے بعد یہ برادری شدید تنازعہ کا شکار ہوئی،طالبہ نے بعد ازاں مقدمہ دائر کیا، جس کے بعد ٹامپکنز کاؤنٹی کے ضلعی اٹارنی نے ستمبر 2026 میں فوجداری تحقیقات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ یونیورسٹی پہلے ہی اپنے داخلی جائزے کے بعد بعض طلبہ کے خلاف کارروائی کر چکی تھی، جبکہ چی فائی کی کارنیل شاخ کو 2024 سے کیمپس سے باہر کر دیا گیا ہے،اس معاملے نے امریکی جامعات میں طلبہ برادریوں کے سماجی کردار کے ساتھ ساتھ ان میں ہونے والے مبینہ جنسی جرائم، ادارہ جاتی نگرانی اور طلبہ کے تحفظ کے سوالات کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید