Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹینیسی میں دو سو سال بعد پہلی خاتون کو سزائے موت دینے کی تیاری، گورنر نے رحم کی اپیل مسترد کردی

ٹینیسی میں دو سو سال بعد پہلی خاتون کو سزائے موت دینے کی تیاری، گورنر نے رحم کی اپیل مسترد کردی

ٹینیسی: امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً دو صدیوں بعد ایک خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے،گورنر بل لی نے 50 سالہ کرسٹا پائیک کی رحم کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد اس کی پھانسی بدھ کو مقرر کی گئی ہے،پائیک کے وکلا نے آخری کوشش کے طور پر امریکی سپریم کورٹ سے پھانسی روکنے کی درخواست کردی ہے
کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیئن سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی،اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی اور مقتولہ اس کی کلاس فیلو تھی،استغاثہ کے مطابق پائیک نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر ٹینیسی کے شہر ناکس ول میں واقع جاب کورپس میں زیرتعلیم سلیمر کو قتل کیا تھا
یہ مقدمہ قتل کی انتہائی سنگین نوعیت اور ملزمان کی کم عمری کے باعث ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنا،مقدمے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مقتولہ کے جسم پر شیطانی علامت تراشی گئی تھی
پائیک کو 1996 میں فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی،وہ جدید امریکی تاریخ میں سزائے موت پانے والی سب سے کم عمر خواتین میں شمار ہوئی اور طویل عرصے سے ٹینیسی کی ڈیتھ رو میں قید ہے
گورنر بل لی کے رحم کی درخواست مسترد کرنے کے بعد اب پائیک کے وکلا نے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے،اگر عدالت نے پھانسی روکنے کا حکم جاری نہ کیا تو بدھ کو سزا پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے
پائیک کے معاملے نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امریکی سزائے موت کے نظام، کم عمری میں کیے گئے جرائم اور مجرموں کی طویل قید کے دوران ان کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں سے متعلق بحث بھی جاری رکھی ہے
اگر پھانسی پر عمل درآمد ہوجاتا ہے تو پائیک ٹینیسی میں تقریباً 200 برس میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوگی، جس کے باعث یہ مقدمہ ریاست کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے

قومی خبریں سے مزید