مصنوعی ذہانت سے روزگار کا مستقبل اور سماجی خطرات بڑھنے کا خدشہ
مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی صلاحیتوں میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ریاضی، حیاتیاتی تحقیق اور دیگر پیچیدہ شعبوں میں ان کی کارکردگی نے یہ بحث تیز کردی ہے کہ اے آئی مستقبل میں انسانی کام کو کس حد تک تبدیل کرسکتی ہے تاہم ماہرین کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کتنی طاقتور ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات کارکنوں، روزگار اور پورے معاشرے پر کیسے پڑیں گے
مصنوعی ذہانت کے وسیع پیمانے پر استعمال سے متعلق ایک تشویش یہ ہے کہ انتہائی طاقتور نظاموں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اے آئی کی مدد سے حیاتیاتی ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بننے والی دیگر ٹیکنالوجیز تک رسائی آسان ہوسکتی ہے تاہم مضمون میں ان خدشات کو بعض حلقوں کی جانب سے مبالغہ آمیز بھی قرار دیا گیا ہے اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی واقعی اتنی خطرناک ہے تو اسے مکمل طور پر نجی کمپنیوں کے تجارتی مفادات کے تحت کیوں تیار کیا جا رہا ہے
مصنوعی ذہانت کی ترقی اس لحاظ سے روایتی حساس ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے کہ اس شعبے میں بڑی نجی کمپنیاں اور سرمایہ کار بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں مضمون کے مطابق اگر اے آئی سے بڑے پیمانے پر سماجی خطرات وابستہ ہیں تو اس کے استعمال، فروخت، ترقی اور نگرانی کے لیے ریاستی قوانین اور واضح ضابطوں کی ضرورت ہوسکتی ہے، کیونکہ صرف ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں پر انحصار کرنا مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے
دوسری طرف مصنوعی ذہانت سے غیر معمولی معاشی ترقی کی توقعات بھی زیر بحث ہیں بعض ٹیکنالوجی ماہرین کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر کام کی خودکاری سے معیشت کی شرح نمو بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے، لیکن ماہرین بین مول اور ایلکس اِمس کے مطابق ایسی غیر معمولی ترقی کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ خودکاری بہت تیزی سے پوری معیشت میں پھیل جائے، بشمول ایسے جسمانی اور انسانی تعلقات سے جڑے کام جنہیں مشینوں سے تبدیل کرنا نسبتاً مشکل ہے
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے اشیا اور خدمات کی پیداوار بہت سستی ہوجائے لیکن اسی دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدنی کم یا روزگار ختم ہوجائے تو ان مصنوعات کو خریدنے کے لیے مطلوبہ طلب کہاں سے آئے گی یعنی صرف پیداوار بڑھ جانا کافی نہیں، معیشت کو صارفین کی قوت خرید بھی برقرار رکھنا ہوگی
روزگار پر اے آئی کا اثر صرف ملازمت ختم ہونے تک محدود نہیں ہوسکتا بعض کارکنوں کے لیے مشین براہ راست انسانی کام کی جگہ لے سکتی ہے، جبکہ دوسروں کے لیے محض یہ خطرہ کہ ان کی جگہ اے آئی لے سکتی ہے، کام کے حالات، اجرت اور ملازمت کے تحفظ پر اثر ڈال سکتا ہے اس طرح مصنوعی ذہانت مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کو بھی متاثر کرسکتی ہے
ٹیکنالوجی کی تاریخ میں نئی مشینوں کے آنے کے بعد بعض پرانی ملازمتیں ختم ہوئیں لیکن نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوئیں۔ مثال کے طور پر بینکاری کے شعبے میں اے ٹی ایم کے پھیلاؤ کے باوجود بینکنگ کا روزگار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تاہم اس تاریخی مثال سے یہ نتیجہ لازماً نہیں نکلتا کہ اے آئی کے دور میں ہر متاثرہ کارکن آسانی سے نئی ملازمت حاصل کرلے گا
مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی معاشی تبدیلی میں فائدہ اور نقصان یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتے کچھ افراد اور کمپنیاں نئی ٹیکنالوجی سے تیزی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں جبکہ وہ کارکن جن کی مہارتیں غیر ضروری ہوجائیں، انہیں نئی مہارت حاصل کرنے یا نیا روزگار تلاش کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں
اسی لیے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر بحث صرف ٹیکنالوجی کی رفتار اور کمپنیوں کی ترقی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ روزگار، اجرت، کارکنوں کے تحفظ، تعلیم اور دوبارہ تربیت کے نظام پر بھی توجہ دینی ہوگی اگر اے آئی کے باعث پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس کے فوائد کارکنوں تک نہیں پہنچتے تو معاشی ترقی کے باوجود معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ ہوسکتا ہے





