مشی گن کے شہری کا مسلم آبادی میں اضافے پر اعتراض، پتہ افشا ہونے کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار
مشی گن کے شہر وارن کے 57 سالہ جسٹن ٹائی نے اپنے علاقے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلم تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں پر کھل کر اعتراض کیا ہے،ان کے بیانات کے بعد ان کا ذاتی پتہ سوشل میڈیا پر افشا کر دیا گیا، تاہم ٹائی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
ٹائی نے فوکس نیوز کو بتایا کہ وارن ہی ان کا آبائی شہر ہے اور وہ اسی ریاست میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں،ان کے مطابق اپنے علاقے میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کرنا ان کا حق ہے
رپورٹ کے مطابق ٹائی کو تنقیدی اور توہین آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے،ایک پیکیج پر ان کے نام کے ساتھ ’’Bigot at Large‘‘ لکھا گیا تھا، جبکہ ایک دوسرے پیکیج میں ٹرمپ اور ٹائی کے خلاف نازیبا پیغامات والے اسٹیکرز اور خواتین کے حفظانِ صحت سے متعلق مصنوعات شامل تھیں
اپنا پتہ افشا کیے جانے کے باوجود ٹائی نے کہا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے ردعمل برداشت کرنا بھی قابل قبول ہوتا ہے اور وہ اپنے مؤقف پر بات کرتے رہیں گے
تاہم یہ تنازعہ صرف ایک شخص کی شکایت تک محدود نہیں،مشی گن کے بعض علاقوں میں آبادی، ہجرت، مذہبی شناخت اور مقامی ثقافت میں تبدیلی کے حوالے سے سیاسی اور سماجی بحث تیز ہوئی ہے،ان تبدیلیوں کو بعض مقامی افراد تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ مسلم امریکی شہری اور تارکین وطن کمیونٹی کے افراد اپنے مذہب اور ثقافت کے ساتھ امریکی معاشرے کا حصہ بننے کو اپنے آئینی حقوق کا معاملہ سمجھتے ہیں





