ایران پر جوہری پروگرام میں رعایت کا دباؤ، ٹرمپ کے جنگی دباؤ کے بعد مذاکرات کی بحالی کی نئی کوشش
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ثالثوں نے ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم رعایت دینے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات دوبارہ شروع کرائے جا سکیں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مذاکرات سے واقف ثالثوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل اور غیر یقینی کوشش ہے، جس کا مقصد ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے اہم مطالبے یعنی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے معاملے پر مطمئن کرنا ہے
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کی گئی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور اب تنازع کا مرکز آبنائے ہرمز کی بحالی کے بجائے ایران کے جوہری پروگرام کو بنا رہے ہیں،یہ وہی بنیادی مقصد ہے جسے ٹرمپ جنگ شروع ہونے کے وقت بھی پیش کرتے رہے ہیں
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایرانی حکومت کو “تباہ” کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں
ثالثوں کی کوشش ہے کہ ایران جوہری پروگرام سے متعلق ایسی یقین دہانیاں یا رعایتیں دے جنہیں واشنگٹن مذاکرات کی بحالی کی بنیاد بنا سکے،تاہم موجودہ صورتحال میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی ضمانت موجود نہیں اور جنگ بندی کے امکانات اب بھی شدید امریکی ایرانی اختلافات سے جڑے ہوئے ہیں





