امریکا کی پیشکش مسترد، ایران ہرمز کھولنے کی شرائط پر قائم
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کیے گئے 7 روزہ جنگ بندی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے اور تہران ان شرائط سے پیچھے نہیں ہٹے گا ان کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو 7 روزہ منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو 7 دن کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولا جا سکتا ہے
ایران کی شرائط میں مشرق وسطیٰ میں تمام فوجی کارروائیاں روکنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنا اور ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں ایران نے یمن میں جاری لڑائی ختم کرنے کو بھی اپنی شرائط میں شامل کیا ہے
تاہم ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے معاہدہ چاہتا ہے دوسری جانب عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو ابھی تک امریکی مؤقف باقاعدہ طور پر ثالثوں کے ذریعے موصول نہیں ہوا اور وہ حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں کہا کہ ایران مذاکرات کی میز سے نہیں اٹھا، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اسے امریکا پر اعتماد نہیں رہا تہران کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے لیکن دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنی خودمختار حیثیت سے دستبردار نہیں ہوگا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم مسئلہ بن چکی ہے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ میں کہا کہ عالمی برادری کو آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور کسی بھی فریق کو ان اہم سمندری راستوں کو دباؤ یا دھمکی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے





