Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تقریباً نصف جوڑے شریکِ حیات کے سو جانے کے بعد چپکے سے یہ کام کرتے ہیں

تقریباً نصف جوڑے شریکِ حیات کے سو جانے کے بعد چپکے سے یہ کام کرتے ہیں

ایک دلچسپ نئے سروے نے ازدواجی زندگی کی ایک ایسی چھوٹی سی عادت سامنے لائی ہے جس کا اعتراف شاید بہت سے جوڑے کھلے عام نہ کریں،اگر میاں بیوی ایک ہی بستر پر سوتے ہیں تو ممکن ہے ان میں سے ایک دوسرے کے سو جانے کا انتظار کرکے خاموشی سے کمرے کا درجہ حرارت بدل دیتا ہو
امریکی کمپنی Amerisleep کے 1,011 بالغ افراد پر کیے گئے سروے کے مطابق ایک ساتھ سونے والے جوڑوں میں سے 44 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے شریکِ حیات کے سو جانے کے بعد چپکے سے تھرموسٹیٹ تبدیل کر چکے ہیں
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً دو تہائی جوڑوں میں کبھی نہ کبھی سونے کے کمرے کے درجہ حرارت پر اختلاف ہوتا ہے، جبکہ 6 فیصد جوڑے ہر رات اسی مسئلے پر بحث کرتے ہیں
یعنی مسئلہ محبت کا نہیں، درجہ حرارت کا ہے،ایک کے لیے 72 ڈگری فارن ہائیٹ آرام دہ ماحول ہے تو دوسرے کے لیے یہی درجہ حرارت ایسا محسوس ہوسکتا ہے جیسے کمرے میں سردی کی لہر چل رہی ہو
ماہرین کے مطابق نیند کے دوران جسم کا درجہ حرارت قدرتی طور پر تبدیل ہوتا ہے، اس لیے گرم یا ٹھنڈے ماحول کی ترجیح نیند کے معیار پر بھی اثر ڈال سکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بظاہر معمولی سا تھرموسٹیٹ بعض جوڑوں کے لیے رات کا سب سے اہم فیصلہ بن جاتا ہے
یوں سروے نے ازدواجی زندگی کا ایک خاموش راز ضرور بے نقاب کردیا،ساتھی کے سو جانے کے بعد تھرموسٹیٹ بدلنا شاید امریکا میں تقریباً ہر دوسرے جوڑے کی خفیہ رات کی عادت ہے

قومی خبریں سے مزید