آبنائے ہرمز پر تعطل برقرار، ایران نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کرنے کے بعد مذاکرات پر زور دے دیا
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعہ کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مخصوص شرائط پوری ہونے اور کسی متفقہ مذاکراتی حل سے مشروط ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کی بحالی انہی شرائط کی تکمیل سے وابستہ ہے،ان کے مطابق موجودہ تعطل سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا ہے
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی اس تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس کے ساتھ ہی واضح کیا کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں،یوں واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار ہیں، جبکہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کی صورت حال اب بھی کشیدہ ہے





