جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں عالمی راہنماؤں کی شرکت:وزیر اعظم شہباز شریف کی صدر ٹرمپ سمیت اہم لیڈروں سے ملاقات نہ ہو سکی
تجزیاتی رپورٹ: احمد وقاص ریاض
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس نیویارک میں اختتام پذیر ہو گیا۔ دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور اعلیٰ سرکاری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس کی خاص بات امریکہ کے صدر کی اپنے معاونین سمیت شرکت ، انکی اہم ملاقاتیں ، تقریر اور ایران کے صدر کی جنرل اسمبلی اجلاس میں آمد تھی۔ صدر ٹرمپ جو ماضی میں اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے ہیں اس مرتبہ انہوں نے یو این جنرل اسمبلی میں بھرپور طریقے سے شرکت کی ۔ دنیا بھر سے آئے وفود کے سامنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر ایران شرائط پر آمادہ نہ ہوا تو اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ کیوبا، یوکرین ،گرین لینڈ اور دوسرے بین الاقوامی ایشوز کے علاوہ صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت اور اندرون ملک اپنی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ واضع رہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ایران امریکہ جنگ اور یوکرین روس جنگ کی طرح جنرل اسمبلی کے حالیہ سیشن کے مرکزی ایجنڈے میں شامل تھی ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر کا دنیا کے بیشتر ممالک نے بائیکاٹ کیا، اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے نیویارک سٹی کے میئر کو ھدف تنقید بنانے پر زیادہ وقت صرف کیا جسپر عالمی مبصرین نے حیرت کا اظہار کیا۔ دنیا کی بڑی طاقتوں روس، چین ، اٹلی اور بھارت کے سربراہان یو این جنرل اسمبلی سیشن میں نہیں آئے ،جبکہ کینیڈا اور اسپین کے وزیر اعظم سیشن میں موجود تھے مگر انکی صدر ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف برطانیہ کچھ روز قیام کے بعد اپنے سرکاری جہاز میں مختصر وفد کے ساتھ نیویارک پہنچے، جبکہ انکے چند مشیر علیحدہ فلائٹس لیکر امریکہ پہنچے ۔ نیویارک قیام کے دوران وزیر اعظم شباز شریف نے سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ نیشنز انتونیو گوتریس اور دنیا کے اہم ممالک شام، کینیا ، مقدونیہ ،لبنان ، بنگلہ دیش اور ایران کے سربراہان اور کئی دوسرے غیر اہم ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کیں ۔ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عالمی تجارتی گزر گاہوں کی بندش اور فلسطین خصوصاً غزہ کے عوام کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ۔ تقریر میں بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلئے آواز اُٹھائی اور پاکستان کا پانی بند کرنے پر بھارت سرکار کو دوبارہ متنبہ کیا۔ وزیر اعظم نے دنیا میں امن کیلئے امریکہ کے صدر کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا ۔ نیویارک میں کاروباری افراد اور اوورسیز پاکستانیوں سے ملاقاتوں کے بعد دورے کے اختتام پر وزیر اعظم اپنے قریبی دوست کے گھر نیو جرسی تشریف لے گئے ۔ امریکہ میں مقیم بعض صحافیوں کیمطابق میاں فیملی کے اس قریبی دوست نے ابتدا میں انکو امریکہ کے طاقتور حلقوں میں متعارف کروایا تھا جس وجہ سے میاں خاندان کی سیاست کو دوام حاصل ہوا۔ اپنے دوست کے گھر میں مقامی مسلم لیگ کے تقریبا ایک درجن لوگوں سے وزیر اعظم نے ملاقات کی ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر جنکو سیکرٹری خارجہ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے اور امریکہ میں متعین سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے ،سالگرہ کا کیک کاٹنے اور پُر تکلف ڈنر کے بعد پرائم منسٹر براستہ لندن پاکستان روانہ ہو گئے۔ میاں شباز شریف کے دورے میں ایک خاص بات جو صحافتی حلقوں نے نوٹ کی وہ وزیر اعظم اور انکے ساتھی ُوزرا کے چہرے پر پھیلی پریشانی اور اضطراب تھا جسکی وجہ بین الاقوامی پریشر یا ملکی حالات بھی ہو سکتے ہیں ۔





