اقوام متحدہ میں نتن یاہو کی واپسی، اسرائیلی وزیراعظم پہلے سے زیادہ تنہا
نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایسے وقت خطاب کریں گے جب غزہ جنگ، 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد تقریباً 3 سال سے جاری جنگوں اور آئندہ انتخابات نے ان کی سیاسی پوزیشن کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نتن یاہو اس مرتبہ اقوام متحدہ کے اسی روایتی پلیٹ فارم پر واپس آ رہے ہیں، جہاں وہ ماضی میں عالمی ادارے پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں، مگر اس بار ان کی تقریر کا نمایاں پہلو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی ہو سکتا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے صرف چند گھنٹے قبل امریکہ پہنچیں گے اور تقریر کے فوراً بعد واپس روانہ ہونے کا پروگرام ہے،اخبار نے لکھا کہ ان کی موجودہ صورتحال ماضی سے مختلف ہے، کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم کو ایک طرف آئندہ انتخابات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب غزہ جنگ اور تقریباً 3 سال سے جاری علاقائی تنازعات نے اسرائیل کے عالمی تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے ہیں
نتن یاہو اقوام متحدہ میں اپنے سالانہ خطابات کے دوران عالمی ادارے کو بارہا شدید تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں،2024 میں انہوں نے اقوام متحدہ کو “اندھیرے کا گھر” قرار دیتے ہوئے اس پر اسرائیل مخالف اور یہود دشمن رویوں کے الزامات عائد کیے تھے
اخبار کے مطابق اس سال نتن یاہو کی تقریر کا سیاسی پس منظر زیادہ اہم ہے، کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم ایسے وقت امریکہ پہنچ رہے ہیں جب اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت، غزہ جنگ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد معاملات پر ان کی حکومت کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے،وال اسٹریٹ جرنل نے خاص طور پر اس بات کو اجاگر کیا کہ نتن یاہو کی واشنگٹن آمد ایسے مرحلے پر ہو رہی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بھی پہلے جیسے مضبوط دکھائی نہیں دیتے
نتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ جنگ، فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات عالمی رہنماؤں کی گفتگو کے مرکزی موضوعات ہیں،ان حالات میں اسرائیلی وزیراعظم کا خطاب امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات، غزہ جنگ اور اسرائیل کی بدلتی ہوئی بین الاقوامی پوزیشن کے حوالے سے خاص توجہ کا مرکز بننے کی توقع ہے






