Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی شی جن پنگ سے گرم جوشی، مگر کانگریس میں چین کے خلاف سخت آوازیں بلند

ٹرمپ کی شی جن پنگ سے گرمجوشی، مگر کانگریس میں چین کے خلاف سخت آوازیں بلند

واشنگٹن میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کو وائٹ ہاؤس میں گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا، لیکن امریکی کانگریس میں ان کے استقبال کا انداز نمایاں طور پر مختلف رہا، جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان نے چین کے عالمی کردار اور پالیسیوں پر شدید تنقید کی
چین کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرنا طویل عرصے سے امریکی قانون سازوں کے لیے سیاسی طور پر نسبتاً آسان رہا ہے، تاہم ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے،امریکی حکام چین پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ ایران کی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ ایرانی فوج کو فوجی پرزہ جات اور انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں
کانگریس کے ارکان نے تقاریر، خطوط، پریس کانفرنسوں اور سماعتوں کے ذریعے شی جن پنگ کے واشنگٹن دورے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا،ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کی جانب سے سامنے آنے والے یہ بیانات وائٹ ہاؤس کے رویے سے واضح طور پر مختلف تھے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو واشنگٹن پہنچنے والے چینی صدر کا انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیاہے
یوں شی جن پنگ کے دورے کے موقع پر امریکی حکومت کے دو مختلف لہجے نمایاں ہو رہے ہیں، وائٹ ہاؤس میں سفارتی گرمجوشی اور کانگریس میں چین کے خلاف بڑھتی ہوئی سخت تنقید

قومی خبریں سے مزید