فریج میں ایک انڈا اور معاشرے کے کئی سوال
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)
کراچی کے احسن آباد میں ایک گھر سے ایک ڈاکٹر، اس کی اہلیہ اور ان کی تین کم سن بیٹیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ گھر کئی روز سے بند تھا۔ پڑوسیوں کو بدبو محسوس ہوئی تو پولیس کو اطلاع دی گئی، دروازہ توڑا گیا اور اندر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پولیس کے مطابق گھر میں شدید مالی مشکلات کے آثار تھے، باورچی خانہ تقریباً خالی تھا اور فریج میں صرف ایک انڈا موجود تھا۔ تاہم یہ بات ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ ان پانچوں کی موت بھوک سے ہوئی؛ ابتدائی پوسٹ مارٹم موت کی وجہ متعین نہیں کر سکا اور حتمی نتیجے کے لیے کیمیکل تجزیہ جاری ہے۔
لیکن اس سانحے کا ایک انڈا میرے ذہن میں ایک اور سوال پیدا کرتا ہے۔ کیا یہ صرف بھوک کی کہانی ہے؟ یا اس کے پیچھے ایک ایسی خاموش تباہی بھی ہے جو انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا؟
اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عمر بیماری، روزگار کے خاتمے اور شدید مالی مشکلات سے دوچار تھے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اہلیہ نے گھر کا اوون فروخت کرنے کی کوشش کی تھی اور ایک پڑوسی نے مدد کے طور پر دو ہزار روپے دیے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے بیماری کی تشخیص کے بعد ملازمت چھوڑ دی تھی اور گھر کے حالات مسلسل خراب ہوتے گئے تھے۔
یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے۔
اگر ایک تعلیم یافتہ خاندان، جس میں شوہر خود ڈاکٹر ہو، بیماری، بے روزگاری اور مالی بحران کے باعث اس قدر تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے کہ اس کے گھر میں کھانے کو تقریباً کچھ نہ بچے، تو ہمیں صرف یہ پوچھ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست کہاں تھی؟ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ خاندان کہاں تھا؟ دوست کہاں تھے؟ پڑوسی کہاں تھے؟ معاشرہ کہاں تھا؟ اور سب سے بڑھ کر، اس خاندان کو خود کہاں سے امید ملنی تھی؟
پاکستان، خصوصاً کراچی، ایسا شہر نہیں جہاں ضرورت مند کے لیے کھانا بالکل ناپید ہو۔ سیلانی ویلفیئر کا دسترخوان روزانہ مستحق افراد کو مفت کھانا فراہم کرتا ہے اور اس کے مطابق یہ سہولت مالی بحران سے دوچار خاندانوں، بے روزگار افراد، مزدوروں اور دوسرے ضرورت مندوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ کراچی میں ایدھی، چھیپا اور دیگر فلاحی ادارے بھی مختلف شکلوں میں کھانے، راشن، علاج اور ہنگامی مدد فراہم کرتے ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ اگر شہر میں خیرات کے اتنے دروازے موجود ہیں تو ایک خاندان اس مقام تک کیسے پہنچ جاتا ہے جہاں فریج میں صرف ایک انڈا رہ جاتا ہے؟
اس کا جواب صرف “غربت” نہیں ہے۔
بعض اوقات مسئلہ کھانے کی عدم موجودگی سے زیادہ مدد تک پہنچنے کی صلاحیت کا ختم ہوجانا ہوتا ہے۔
ایک شخص جس کی ساری زندگی عزت، خودداری اور دوسروں کو دینے میں گزری ہو، وہ اچانک ہاتھ پھیلانے میں شرمندگی محسوس کر سکتا ہے۔ ایک بیمار انسان اپنی بیماری کے صدمے میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ بے روزگاری انسان کے اعتماد کو توڑ سکتی ہے۔ قرض، مکان کا کرایہ، بچوں کی ذمہ داری اور علاج کا خرچ مل کر ایسا ذہنی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں جس میں انسان مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے ایک ناقابلِ شکست دیوار سمجھنے لگتا ہے۔
یہیں آکر ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
ہم اپنے بچوں کو کامیابی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ اچھے نمبر کیسے لینے ہیں، اچھی ملازمت کیسے حاصل کرنی ہے، پیسہ کیسے کمانا ہے اور زندگی میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔ لیکن ہم انہیں یہ بہت کم سکھاتے ہیں کہ ناکامی کے بعد کیا کرنا ہے؟
اگر ملازمت چلی جائے تو کیا کریں؟
اگر کاروبار ناکام ہوجائے تو کس سے مشورہ لیں؟
اگر بیماری کے باعث آمدنی بند ہوجائے تو اخراجات کیسے کم کریں؟
اگر گھر میں کھانا ختم ہوجائے تو کس دوست، رشتہ دار یا فلاحی ادارے سے مدد مانگیں؟
اگر انسان خود ٹوٹ رہا ہو تو اپنے خاندان سے بات کیسے کرے؟
اور سب سے اہم سوال: کیا مشکل وقت زندگی کا اختتام ہے یا صرف زندگی کا ایک مشکل مرحلہ؟
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں، زندہ رہنا بھی سکھانا ہوگا۔
زندگی ہمیشہ ہمارے منصوبے کے مطابق نہیں چلتی۔ اچھی نوکری چھن سکتی ہے، کاروبار ڈوب سکتا ہے، بیماری آسکتی ہے، حادثہ ہوسکتا ہے، سرمایہ ختم ہوسکتا ہے۔ مضبوط خاندان وہ نہیں جس پر کبھی مصیبت نہ آئے؛ مضبوط خاندان وہ ہے جو مصیبت آنے کے بعد ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا رہنا جانتا ہو۔
یہاں ایک اور غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کی موت یا تباہی کو محض “اس میں جینے کی خواہش نہیں تھی” کہہ دینا درست نہیں۔ ہم اس خاندان کی ذہنی کیفیت نہیں جانتے اور نہ ہی ہمیں معلوم ہے کہ آخری دنوں میں ان کے درمیان کیا کچھ ہوا۔ لیکن یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ امید، حوصلہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور بروقت مدد طلب کرنے کی عادت بھی انسانی بقا کے اہم حصے ہیں۔
مدد مانگنا کمزوری نہیں۔
اپنی مشکل کسی قابلِ اعتماد شخص کو بتانا شکست نہیں۔
کسی فلاحی ادارے کے دروازے پر جانا ذلت نہیں۔
اور بچوں کو یہ بتانا کہ “ہمارے پاس آج پیسے نہیں، لیکن ہم مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں گے” شاید ان کے اندر وہ ذہنی طاقت پیدا کرسکتا ہے جو پوری زندگی ان کے کام آئے۔
ہمیں اپنے فلاحی نظام پر بھی دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ صرف ایک وقت کا کھانا دے دینا ضروری ہے، لیکن بعض خاندانوں کو اس سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں علاج، روزگار، راشن، رہنمائی، قرض سے نکلنے کی منصوبہ بندی اور مسلسل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاندان ایک مرتبہ دسترخوان تک پہنچ گیا ہے تو شاید یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اگلے ہفتے کہاں ہوگا اور اگلے مہینے اس کے حالات کیسے ہوں گے۔
ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ ہے۔ فلاحی اداروں کی ذمہ داری اپنی جگہ ہے۔ لیکن معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں کسی کو بھوک نہیں رہنی چاہیے۔ شاید اب ہمیں اس سے ایک قدم آگے جانا ہوگا:
ہمارے پڑوس میں کوئی انسان اتنا تنہا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی خاموشی کسی کو سنائی ہی نہ دے۔
ہم اپنے پڑوسی کے گھر کی نئی گاڑی دیکھ لیتے ہیں، شادی کی تقریب دیکھ لیتے ہیں، بیماری کی خبر بھی کبھی کبھار مل جاتی ہے، مگر کیا ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ والے گھر میں گزشتہ دو ماہ سے کرایہ ادا نہیں ہوا؟ کسی کا کاروبار بند ہوچکا ہے؟ کسی باپ کی ملازمت ختم ہوچکی ہے؟ کسی ماں کے گھر میں راشن ختم ہوچکا ہے؟ کسی بچے کی فیس رک گئی ہے؟
شاید نہیں۔
اور یہی ہماری اجتماعی کمزوری ہے۔
حضرت عمرؓ سے منسوب وہ مشہور واقعہ کہ ایک ماں اپنے بھوکے بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں پتھر ابال رہی تھی، ہمیں صرف ایک حکمران کی ذمہ داری نہیں یاد دلاتا؛ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ بھوکے انسان کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ہر ضرورت مند خود دروازے پر آکر اعلان نہیں کرتا کہ اسے مدد چاہیے۔
اس لیے احسن آباد کا یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے محض سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹ بنا کر اگلی خبر کے ساتھ بھلا دینا بھی اس المیے کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
فریج میں موجود وہ ایک انڈا شاید اس خاندان کی پوری کہانی نہ بتاتا ہو، لیکن اس نے ہم سب سے بہت سے سوال ضرور پوچھ دیے ہیں۔
کیا ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو واقعی جانتے ہیں؟
کیا ہمیں معلوم ہے کہ مشکل میں مبتلا شخص مدد کہاں سے لے سکتا ہے؟
کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف کامیابی سکھائی ہے یا ناکامی سے لڑنا بھی سکھایا ہے؟
کیا ہماری فلاحی کوششیں صرف کھانا پہنچانے تک محدود ہیں یا ہم ٹوٹتے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟
اور سب سے بڑا سوال:
کیا ہم کسی انسان کے مکمل ٹوٹ جانے کا انتظار کرتے ہیں، یا اس سے پہلے اس کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں؟
شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات انسان بھوک سے پہلے تنہائی میں مرتا ہے، جسم کے ختم ہونے سے بہت پہلے اس کے اندر امید کا چراغ بجھ جاتا ہے۔
اور اگر ایسا ہے تو ہمارے معاشرے کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ ہم کتنے لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ ہم کتنے لوگوں کو دوبارہ جینے کی امید دیتے ہیں۔






