اوون جونز: مغرب زوال کی طرف، لیکن خطرے کی وارننگز کو مسلسل نظرانداز کیا گیا
لندن: گارڈین کے کالم نگار اوون جونز نے اپنے تازہ تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ مغربی دنیا اس وقت شدید زوال کا شکار ہے اور اس صورت حال کے آثار معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ہو چکے ہیں،ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بحرانوں کے بارے میں کئی دہائیاں پہلے ہی وارننگز دی گئی تھیں، لیکن مغربی قیادت نے انہیں نظرانداز کیا
جونز نے جرمنی کے حالیہ ریاستی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ مشرقی ریاست میکلن برگ،وورپومرن میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، یعنی AfD، نے تقریباً 40 فیصد ووٹ حاصل کیے،انتخابی نتائج کے مطابق AfD کو 38.3 فیصد ووٹ ملے، جبکہ سوشل ڈیموکریٹس 35.4 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے
گارڈین کالم نگار کے مطابق فرانس بھی 54 ارب یورو کے مالیاتی دباؤ کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ مغرب کی ایران کے خلاف جنگ اور مشرق وسطیٰ میں مسلسل فوجی مداخلتوں نے امریکی عوام کے لیے توانائی کے اخراجات میں بڑا اضافہ کیا ہے
جونز نے اس بیانیے کو بھی چیلنج کیا کہ مغرب کے زوال کی بنیادی وجہ تارکین وطن، مسلمانوں، ٹرانس افراد، “ووک” سیاست یا نام نہاد “ڈیپ اسٹیٹ” ہے،ان کے مطابق اصل مسئلہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی اشرافیہ کا ایسا معاشی اور سیاسی نظام اختیار کرنا تھا جس میں دولت اوپر کی طرف منتقل ہوتی گئی اور فوجی طاقت کو دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال کیا گیا
انہوں نے 1994 میں ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیدار وین میری کی وارننگ کا حوالہ دیا، جنہوں نے روس میں تیز رفتار معاشی اصلاحات کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا،میری کے مطابق روس میں عام لوگوں کے معیار زندگی کو نقصان پہنچا کر انہیں مغرب نواز سیاسی نظام کی حمایت پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا اور اس پالیسی سے انتہاپسند قوتوں کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ پیدا ہوگا
جونز نے افغانستان کی مثال بھی دی، جہاں ان کے مطابق امریکی حکام نے 1980 کی دہائی کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں اسلامی جنگجوؤں کو بڑی مقدار میں اسلحہ فراہم کرنے کے طویل مدتی نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں،ان کے بقول ایسی وارننگز اس وقت نظرانداز ہوئیں کیونکہ بنیادی ترجیح سوویت یونین کو شکست دینا تھی
معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے جونز نے مؤقف اختیار کیا کہ مغربی معیشتیں دولت پیدا کرنے کے بجائے بڑھتی ہوئی حد تک دولت نکالنے اور مالیاتی اثاثوں کو انعام دینے کے نظام میں تبدیل ہوئیں،ان کے مطابق 2008 کے مالیاتی بحران نے اس ماڈل کی کمزوریوں کو نمایاں کیا، لیکن اس کے بعد بھی عام شہریوں پر اس بحران کی قیمت منتقل ہوئی
جونز نے خبردار کیا کہ معاشی مایوسی، جنگوں اور سیاسی بے اعتمادی کے امتزاج سے یورپ اور امریکا میں دائیں بازو کی مقبولیت بڑھ رہی ہے،ان کے مطابق موجودہ حالات آگے چل کر زیادہ سخت گیر اور آمرانہ سیاست کو تقویت دے سکتے ہیں
تاہم جونز کا مضمون ایک سیاسی رائے اور تجزیہ ہے، نہ کہ مغربی دنیا کے زوال پر کوئی غیر جانب دار تحقیقی رپورٹ،ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ مغرب کے موجودہ بحرانوں کی جڑیں تارکین وطن یا ثقافتی تنازعات سے زیادہ دولت اور طاقت کے طویل عرصے تک غیر متوازن ارتکاز میں تلاش کی جانی چاہئیں





