ہرمز کھولنے کے بدلے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر امریکہ اور ایران میں مرحلہ وار معاہدے کی بات چیت
نیویارک: امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد امریکی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی بنیادی اختلاف برقرار ہے اور کوئی بھی فریق پہلے اپنی اہم سفارتی قوت چھوڑنے پر تیار نہیں
رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے واقف ایرانی، علاقائی اور مغربی سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ تقریباً 7 ماہ سے جاری امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں آبنائے ہرمز مرکزی سودے بازی کا نقطہ بن چکی ہے،مجوزہ فارمولے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا جبکہ امریکہ ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم یا نرم کرے گا اور تہران کو منجمد اثاثوں تک رسائی دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ موجودہ تعطل ختم کرنے کا ایک قابل عمل راستہ بحران کو مرحلہ وار حل کرنا ہے، جس کا پہلا مرحلہ امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اصل رکاوٹ یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں پہلے قدم کے لیے دوسرے فریق سے رعایت چاہتے ہیں
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے امریکی نمائندے کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور جنگ کا خاتمہ شامل ہیں
اس سے قبل 22 ستمبر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم اور فوجی دباؤ میں کمی کرے تو ایران 7 دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے
آبنائے ہرمز اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سب سے اہم دباؤ کا ذریعہ بنی ہوئی ہے،واشنگٹن عالمی تیل کی اس اہم گزرگاہ میں آزادانہ بحری آمدورفت چاہتا ہے، جبکہ تہران اسے امریکی دباؤ اور ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے اپنے اہم ترین مذاکراتی اثاثے کے طور پر استعمال کر رہا ہے،رائٹرز کے مطابق دونوں فریق اس وقت بھی اس بات پر متفق نہیں کہ پہلے کون سا قدم اٹھایا جائے
مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں ہرمز کی بحری آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں






