Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں عرب جماعتوں پر پابندی

اسرائیل میں عرب جماعتوں پر پابندی

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں عرب نمائندگی کرنے والی 2 اہم سیاسی جماعتوں اور 2 امیدواروں کو انتخاب لڑنے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ فیصلہ حتمی نہیں اور سپریم کورٹ کی منظوری یا عدالتی کارروائی کے بعد ہی اس پر عمل درآمد ممکن ہوگا
کمیٹی نے منصور عباس کی قیادت میں یونائیٹڈ عرب لسٹ اور جوائنٹ لسٹ کو انتخابات سے نااہل قرار دیا اس کے علاوہ کنیسٹ کے رکن اوفر کاسیف اور بالاد جماعت کے رہنما سامی ابو شہادہ کو بھی امیدوار بننے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں
یونائیٹڈ عرب لسٹ نے 2021 میں ایک مخلوط حکومت کا حصہ بن کر اسرائیلی سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا اس اتحاد نے اس وقت بنیامین نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کیا تھا، تاہم حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور 2021 تک عرب جماعتیں کسی حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنی تھیں
انتخابی کمیٹی کے مطابق نااہلی کی درخواستوں میں اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست تسلیم نہ کرنے، نسل پرستی کو ہوا دینے اور اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کی حمایت جیسے الزامات پیش کیے گئے متعلقہ جماعتوں اور امیدواروں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے
عرب جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی قانونی تنظیم نے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اٹارنی جنرل کے دفتر نے بھی بعض جماعتوں کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کو نااہلی کے لیے ناکافی قرار دیا تھا اسرائیلی سپریم کورٹ ماضی میں بھی عرب جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابات سے روکنے کی متعدد کوششیں مسترد کر چکی ہے
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی مقابلہ جاری ہے عرب شہری ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اس لیے عرب جماعتوں کی انتخابی شرکت کنیسٹ میں ان کی سیاسی نمائندگی اور آئندہ حکومت سازی میں ان کے ممکنہ کردار سے براہ راست جڑی ہوئی ہے

قومی خبریں سے مزید