Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کا افغانستان میں 10 مقامات پر حملہ

پاکستان کا افغانستان میں 10 مقامات پر حملہ

پاکستان نے افغانستان سے آنے والے ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان کارروائیوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر ڈرونز کو حملوں کے لیے تیار اور ذخیرہ کیا جا رہا تھا
تارڑ کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کے دفاع کے حق کے تحت کی گئیں اور ان کا دائرہ ان فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جنہیں پاکستان نے 23 ستمبر کو ہونے والی ڈرون دراندازی سے براہ راست منسلک قرار دیا پاکستان کا کہنا ہے کہ حملے منصوبہ بندی کے تحت اور محدود نوعیت کے تھے
اس سے ایک روز قبل پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے افغانستان سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز کو مار گرایا تھا سکیورٹی ذرائع کے مطابق 4 ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ مزید 4 کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے پاکستان کے مطابق تمام ڈرونز اپنے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیے گئے تھے
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود شدت پسند گروہوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کے بارے میں کابل کو کئی مرتبہ آگاہ کیا گیا، لیکن مطلوبہ کارروائی نہ ہونے کے باعث سرحد پار حملوں کا سلسلہ جاری ہے پاکستان نے حالیہ ڈرون کارروائی کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے
دوسری جانب افغان طالبان حکام نے ماضی میں پاکستان کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مناسب جواب دینے کا عندیہ دیا ہے
یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے رواں ہفتے پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیوں میں 28 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام نے ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات دی تھیں۔ دونوں جانب سے واقعات کی مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں
حالیہ کشیدگی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی کسی بھی مزید کارروائی کا جواب دیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید