Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایتھوپیا میں باغیوں نے 3 ہوائی اڈے قبضے میں لے لیے

ایتھوپیا میں باغیوں نے 3 ہوائی اڈے قبضے میں لے لیے

ایتھوپیا کے شمالی علاقے ٹگرائے میں باغی فورسز اور وفاقی حکومت کے درمیان دوبارہ کھلی لڑائی شروع ہو گئی ہے ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ نے علاقے کے 3 اہم ہوائی اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ پڑوسی علاقے عفار میں سرکاری فوج کے ساتھ شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں ایتھوپین ایئرلائنز نے صورتحال کے باعث میکیلے، شائر اور اکسوم کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں
ٹگرائے کے باغی گروپ اور ایتھوپیا کی وفاقی حکومت کے درمیان 2020 سے 2022 تک ہونے والی خانہ جنگی میں تقریباً 6 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2022 میں امن معاہدے کے بعد لڑائی رک گئی تھی، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے دوبارہ جھڑپیں اور ڈرون حملے شروع ہونے کے باعث ایک اور بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا
تازہ لڑائی عفار کے علاقوں ابالا اور ایربتی میں ہوئی ہے انسانی امداد سے وابستہ کارکنوں کے مطابق دونوں مقامات پر ٹگرائے فورسز اور وفاقی فوج کے درمیان لڑائی ہوئی اور کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں ایک غیر ملکی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ باغی ابالا پر قابض ہیں، جبکہ ٹگرائے کے ایک سابق عہدیدار نے متعدد دیگر علاقوں پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی
ٹگرائے کی علاقائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی فورسز نے منگل کو طیاروں، ڈرونز اور توپ خانے سے شدید بمباری کی، جس کے جواب میں ٹگرائے کی فورسز نے کارروائی شروع کی وفاقی حکومت نے تازہ جھڑپوں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان نہیں دیا
ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے نائب صدر امانوئل اسفا نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال جنگ کے آغاز کی علامت ہے اور ان کے مطابق ٹگرائے کی فورسز کو دفاع کے لیے کارروائی کا حکم دیا گیا ہے دوسری جانب افریقی یونین نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور فریقین سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے
حالیہ کشیدگی کو مزید خطرناک بنانے والی بات یہ ہے کہ ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ نے رواں ہفتے ایتھوپیا کے مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ ایک نئے اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے اس اتحاد میں امہارا کے فانو گروپ اور اورومیا کے مسلح گروپ سمیت 7 تنظیمیں شامل ہیں اتحاد نے وزیر اعظم ابی احمد کی حکومت کو ہٹانے اور عبوری حکومت قائم کرنے کا مقصد ظاہر کیا ہے
ٹگرائے پہلے ہی گزشتہ جنگ کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 10 لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں اور 2022 کے امن معاہدے کے کئی حصوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا نئی لڑائی شروع ہونے سے خطے میں انسانی بحران مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
ایتھوپیا میں پہلے ہی امہارا اور اورومیا سمیت کئی علاقوں میں مسلح شورشیں جاری ہیں اس لیے ٹگرائے میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی صرف ایک علاقائی تنازع تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل سکتی ہے وفاقی حکومت کے پاس ڈرونز سمیت جدید فوجی وسائل موجود ہیں، جبکہ ٹگرائے فورسز کے پاس سابقہ جنگ سے حاصل کیا گیا بھاری ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی موجود ہے

قومی خبریں سے مزید