دہلی میں طالبات کا احتجاج، گینگ ریپ سے تحفظ کا مطالبہ
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکڑوں طلبہ نے ایک 17 سالہ لڑکی کی مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد احتجاج کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ اور پولیس کی مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ایک پارک میں 3 افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو منگل کے روز فائرنگ کرکے گرفتار کیا گیا جبکہ 2 مزید مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے یہ دونوں آپس میں بھائی ہیں زیر حراست افراد میں سے 2 کے والد نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹوں کو اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے
واقعے کے خلاف بدھ کی شام طلبہ نے جائے وقوعہ کے قریب مارچ کیا۔ مظاہرین میں بڑی تعداد طالبات کی تھی اور بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے مظاہرین نے خواتین کے تحفظ اور رات کے وقت بھی بغیر خوف گھروں سے باہر نکلنے کے حق کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے
مبینہ واقعہ خواتین کے ایک معروف تعلیمی ادارے لیڈی شری رام کالج سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا مشتبہ افراد میں سے ایک کو کالج کے قریب گولی لگنے کے بعد گرفتار کیے جانے پر انتظامیہ نے طلبہ کی تشویش کے باعث منگل کو کلاسز معطل کر دی تھیں۔ کالج انتظامیہ کا کہنا تھا کہ طالبات کی حفاظت اور بہبود اس کی اولین ترجیح ہے
بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد ایک دیرینہ مسئلہ ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 80 سے زیادہ ریپ کے واقعات پولیس کو رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے واقعات بدنامی، متاثرہ افراد کو الزام دینے اور سماجی دباؤ کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے
دہلی میں 2012 میں ایک طالبہ کے اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں جنسی جرائم کے قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں اور بعض مقدمات کے لیے تیز رفتار عدالتوں کا نظام بھی متعارف کرایا گیا تاہم بعد کے برسوں میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بدستور ایک بڑا سماجی مسئلہ رہے ہیں
حالیہ احتجاج نے ایک مرتبہ پھر بھارت میں خواتین کے تحفظ، پولیس کی کارروائی اور جنسی جرائم کے مقدمات میں مؤثر انصاف کے حوالے سے سوالات کو نمایاں کر دیا ہے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ خواتین کو عوامی مقامات پر محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات میں فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے





