Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں منصوبہ بندی کا نظام ہی بے سمت ہو گیا

پاکستان میں منصوبہ بندی کا نظام ہی بے سمت ہو گیا

پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے ذمہ دار اداروں کی اصلاح کے لیے ہونے والی کوششوں میں بنیادی منصوبہ بندی کے ادارے کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ایک تجزیے کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کے منصوبہ بندی کے ادارے مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود ان اداروں کو تبدیل کرنے اور ان کا کردار طے کرنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں
پاکستان اور بھارت نے اپنے منصوبہ بندی کے ادارے تقریباً ایک جیسے ماڈل پر قائم کیے تھے بھارت نے اپنا منصوبہ بندی کمیشن 1950 میں جبکہ پاکستان نے 1953 میں قائم کیا دونوں ادارے مرکزی منصوبہ بندی کے سوویت طرز کے ماڈل سے متاثر تھے اور ان کا بنیادی کام پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے بنانا اور ریاستی وسائل کو مختلف شعبوں اور علاقوں میں تقسیم کرنا تھا
دونوں ملکوں کے راستے 1980 کی دہائی کے آخر میں مختلف ہوئے بھارت نے 1991 کے معاشی بحران کے بعد اپنی معیشت میں بڑی اصلاحات کیں، جبکہ پاکستان 1988 سے عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں میں داخل ہوا اور اب تک 25 پروگراموں کا حصہ بن چکا ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں پانچ سالہ منصوبہ بندی کا کردار بتدریج کم ہوتا گیا اور معاشی پالیسی پر عالمی مالیاتی اداروں کے پروگراموں کا اثر بڑھتا گیا
پاکستان میں 2010 کی 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 17 وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئیں، لیکن وفاقی منصوبہ بندی ادارے کے نئے کردار کو واضح طور پر ازسرنو متعین نہیں کیا گیا۔ بعد میں اسے مکمل وزارت کی شکل دی گئی، جبکہ صوبوں میں بھی اپنے منصوبہ بندی اور ترقیاتی محکمے مضبوط ہوتے گئے اس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری تقسیم تو ہوئی، لیکن قومی سطح پر نتائج کی نگرانی اور جانچ کا مؤثر نظام قائم نہ ہو سکا
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی اخراجات اب 3.5 کھرب روپے سے زیادہ ہیں، جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام منصوبہ بندی ادارے کا بنیادی باقی رہ جانے والا کام ہے۔ اس پروگرام کا حجم وفاقی بجٹ کا تقریباً 7 فیصد ہے اور اس کی حد وزارت خزانہ طے کرتی ہے
بھارت نے 2014 میں اپنا منصوبہ بندی کمیشن ختم کرکے نیتی آیوگ قائم کیا۔ نئے ادارے کو براہ راست سرکاری فنڈز تقسیم کرنے کے بجائے پالیسی سازی، حکمت عملی، پائیدار ترقی کے اہداف اور ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی وہاں ریاستوں کی کارکردگی مختلف اشاریوں کی بنیاد پر جانچی اور شائع کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں صوبوں کی ترقیاتی کارکردگی کا ایسا جامع قومی جائزہ موجود نہیں
پاکستان کے موجودہ نظام پر ایک اور اعتراض یہ ہے کہ اربوں اور کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ان منصوبوں نے مقررہ اہداف کس حد تک حاصل کیے منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی تقسیم کا نظام موجود ہے، لیکن نتائج کی مستقل نگرانی اور یہ جانچنے کا عمل کمزور ہے کہ عوام کو ان اخراجات سے حقیقی فائدہ کتنا پہنچا
تجزیے میں پاکستان کے منصوبہ بندی نظام کو درپیش کئی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا فقدان، بار بار شروع اور ختم ہونے والے ترقیاتی منصوبے، انسانی ترقی پر ناکافی توجہ، سیاسی اثرات، موسمیاتی تبدیلی کو منصوبہ بندی میں مناسب جگہ نہ دینا، 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی کردار کا غیر واضح رہنا اور صوبائی سطح پر نتائج کی مؤثر نگرانی نہ ہونا شامل ہیں
تجزیے کے مطابق پاکستان میں مسئلہ منصوبہ بندی کے اداروں کی کمی نہیں بلکہ ان اداروں کی سمت اور ذمہ داری واضح نہ ہونے کا ہے اگر ترقیاتی منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو ضروری ہے کہ صرف منصوبوں کی منظوری اور تعمیر پر توجہ دینے کے بجائے ان کے نتائج، عوامی فائدے، معاشی اثرات اور مستقبل کی ضروریات کو بھی باقاعدگی سے جانچا جائے

قومی خبریں سے مزید