پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سفر، تیاری کے باوجود داخلے کی ضمانت نہیں
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کے لیے بیرون ملک سفر صرف ویزا حاصل کرنے اور سفری دستاویزات مکمل کرنے کا نام نہیں رہا بلکہ بعض ممالک کے سرحدی مقامات پر داخلے کے وقت اضافی جانچ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے
ایک پاکستانی خاتون، جنہیں مضمون میں فرضی نام زارا سے بیان کیا گیا ہے، کئی سال سے اپنے شوہر کے ساتھ دبئی میں رہ رہی ہیں دونوں کے پاس متحدہ عرب امارات کی رہائشی حیثیت تھی اور انہوں نے جارجیا کے لیے 7 راتوں کے سفر کی مکمل تیاری کی۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ کے علاوہ انہوں نے ہر ممکن احتیاط کے طور پر 1،000 امریکی ڈالر فی کس نقد بھی ساتھ رکھے
جارجیا کے تبلیسی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر دونوں امیگریشن قطار میں شامل ہوئے، لیکن ان کی باری آنے پر انہیں الگ کاؤنٹر پر بھیج دیا گیا کچھ دیر انتظار کے بعد ایک اہلکار نے انہیں بتایا کہ جارجیا نے انہیں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں اگلی پرواز سے واپس بھیج دیا جائے گا مضمون کے مطابق ان سے کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی اور ان کی دستاویزات بھی تفصیل سے چیک نہیں کی گئیں
خاتون اور ان کے شوہر کو ایک چھوٹے کمرے میں انتظار کرنے کو کہا گیا، ان کے پاسپورٹ اور موبائل فون بھی لے لیے گئے۔ تقریباً 5 گھنٹے بعد انہیں دبئی واپس جانے والی پرواز مل گئی بعد میں شار جہ ایئرپورٹ پر انہیں معلوم ہوا کہ ایسے واقعات بعض پاکستانی اور بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کے ساتھ پیش آ رہے ہیں مضمون میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہر پرواز پر تقریباً 10 سے 12 افراد، خصوصاً پاکستانی اور بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا جا رہا تھا
اس واقعے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ جارجیا کے لیے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کو ویزا آن ارائیول کی سہولت دستیاب ہونے کے باوجود سرحد پر حتمی داخلہ امیگریشن حکام کے فیصلے سے مشروط رہتا ہے۔ یعنی ویزا یا سفری اجازت خود بخود ملک میں داخلے کا حتمی حق نہیں دیتی
مضمون کی مصنفہ نے اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ تبلیسی پہنچنے پر انہیں بھی پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے الگ کاؤنٹر پر بھیج دیا گیا ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کے بعد امیگریشن افسر نے پاسپورٹ پر مہر لگا کر انہیں داخلے کی اجازت دے دی ان کے مطابق ان کے اور زارا کے درمیان بنیادی فرق تیاری یا دستاویزات کا نہیں بلکہ اس موقع پر ملنے والے فیصلے کا تھا
مصنفہ نے پاکستانی پاسپورٹ کو عالمی سفری نظام میں کمزور حیثیت رکھنے والی دستاویز قرار دیتے ہوئے ورلڈ پاسپورٹ انڈیکس میں اس کی 95ویں پوزیشن کا حوالہ دیا ہے تاہم مضمون بنیادی طور پر مصنفہ اور زارا کے ذاتی تجربات پر مبنی ہے اور جارجیا کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو داخلے سے روکنے کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت پیش نہیں کرتا
یہ واقعہ اس بڑے سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ مختلف ملکوں کے شہریوں کو عالمی سطح پر سفر کی یکساں آزادی کیوں حاصل نہیں ایک مسافر مکمل دستاویزات، ٹکٹ، ہوٹل کی بکنگ اور مالی وسائل کے ساتھ سفر کرنے کے باوجود سرحد پر ایسے فیصلے کا سامنا کر سکتا ہے جس کی وجہ اسے بتائی بھی نہ جائے یوں پاسپورٹ صرف شناختی دستاویز نہیں رہتا بلکہ یہ بھی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ کسی مسافر کو دنیا کے مختلف حصوں تک کتنی آسانی سے رسائی حاصل ہوگی
اس مضمون کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے مسافر کے لیے مکمل تیاری ضروری تو ہے، لیکن بعض حالات میں یہ تیاری داخلے کی ضمانت نہیں بن سکتی





