سکیورٹی خدشات کے باعث نیتن یاہو نیویارک میں صرف چند گھنٹے رکیں گے
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنا دورہ مختصر کر دیا ہے اور وہ امریکا میں رات گزارنے کے بجائے چند گھنٹوں کے بعد واپس اسرائیل روانہ ہوں گے
نیتن یاہو جمعرات کو نیویارک پہنچیں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اسی روز اسرائیل واپس روانہ ہو جائیں گے ان کا دورہ تقریباً 6 گھنٹوں تک محدود رہنے کی توقع ہے اس مختصر دورے کی ایک وجہ سکیورٹی خدشات اور نیویارک میں متوقع بڑے احتجاجی مظاہرے بھی بتائے جا رہے ہیں
نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سفارتی تنقید کا سامنا ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں کئی عالمی رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے ذریعے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور اس کی فوج کے مؤقف کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے
دوسری جانب نیویارک میں فلسطین کے حامی مظاہروں کی بھی توقع کی جا رہی ہے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں اختیار حاصل ہوا تو وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ پر عمل کریں گے نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ممدانی پر حماس کی حمایت اور یہودیوں کے خلاف کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ممدانی نے یہود دشمنی کے الزام کی تردید کی ہے
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات سے متعلق گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے
نیتن یاہو کا مختصر دورہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور نیویارک میں ممکنہ احتجاج کے ماحول میں ہو رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اپنا مؤقف دنیا کے سامنے پیش کرے گی





