Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امیگریشن کریک ڈاؤن پر ٹرمپ سے ریپبلکن امیدواروں کا فاصلہ، کئی اہم حلقوں میں پالیسی پر کھلی تنقید

امیگریشن کریک ڈاؤن پر ٹرمپ سے ریپبلکن امیدواروں کا فاصلہ، کئی اہم حلقوں میں پالیسی پر کھلی تنقید

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی پر ریپبلکن پارٹی کے بعض اہم امیدواروں نے کھل کر اختلاف کرنا شروع کردیا ہے،واشنگٹن سن کی رپورٹ کے مطابق متعدد ایسے ریپبلکن امیدوار، جو سخت مقابلے والے انتخابی حلقوں سے امیدوار ہیں، اب ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر امیگریشن کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی کارروائیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق سابق گورنر “مین” پال لی پیج، جو ریاست کے دوسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں، نے کہا ہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، ICE، کو پہلے گینگز اور جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بیٹے کے سسر، جن کے پاس ورک پرمٹ موجود ہے، ملک بدری کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں
فلوریڈا کی ریپبلکن رکن کانگریس ماریا ایلویرا سالازار نے گزشتہ ہفتے جاری ایک انتخابی اشتہار میں صدر ٹرمپ کو براہ راست متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن کے حوالے سے بعض حکومتی اقدامات حد سے آگے بڑھ گئے ہیں،سالازار کا حلقہ بڑی تعداد میں لاطینی اور تارک وطن ووٹرز پر مشتمل ہے
ٹیکساس کی ریپبلکن رکن مونیکا ڈی لا کروز نے بھی ایک اشتہار میں ایسے DACA حاصل کنندہ کا معاملہ اٹھایا جسے ICE نے حراست میں لیا تھا،ان کے حلقے کو ریپبلکن کے حق میں جھکا ہوا قرار دیا جاتا ہے، تاہم وہ بھی امیگریشن پالیسی کے بعض عملی اثرات کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہیں
نیویارک کے ریپبلکن رکن مائیک لاولر نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی تعداد میں ملک بدری کی کارروائیوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے،لاولر نے ایک مضمون میں کہا کہ امریکی عوام محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی امیگریشن کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں،ان کی انتخابی مہم نے اسی مؤقف کی جانب توجہ دلائی ہے
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم شروع کر رکھی ہے اور مارشل پروجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے 610,000 سے زیادہ افراد کو ملک بھر میں حراست میں لیا جا چکا ہے،انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کے بعض راستوں اور قانونی تحفظات کو بھی محدود کیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض افراد نے اپنی قانونی حیثیت یا تحفظات کھوئے ہیں
صدر ٹرمپ نے سالازار کے اختلاف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے مؤقف کو سمجھتے ہیں، لیکن خود اس سے اتفاق نہیں کرتے،ٹرمپ نے کہا کہ سالازار سرحد کے معاملے میں کچھ نرم مؤقف اختیار کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے ان کی دوبارہ انتخابی مہم کی حمایت برقرار رکھی ہے
رپورٹ کے مطابق امیگریشن کا مسئلہ ایسے وقت ریپبلکن امیدواروں کے لیے نمایاں ہو رہا ہے جب نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں،بعض امیدوار ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ کے طریقہ کار سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ بعض نے مخصوص قانونی تارکین وطن، DACA حاصل کنندگان اور طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم غیر دستاویزی افراد کے لیے مختلف قانونی راستوں کی حمایت کی ہے

قومی خبریں سے مزید