ایران کی جنگ میں چین کی خفیہ مدد کا انکشاف، میزائل اور ڈرون کے پرزوں کی ہزاروں کھیپیں پہنچنے کا دعویٰ
واشنگٹن: وال اسٹریٹ جرنل کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور عارضی جنگ بندی کے دوران چینی اداروں سے ایران کو ڈرونز، میزائلوں اور دیگر فوجی نظام میں استعمال ہونے والے اہم اجزا کی بڑی مقدار میں ترسیل جاری رہی، جبکہ اسی دوران چین خود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کا دعویٰ کرتا رہا
واشنگٹن پوسٹ نے ایک ایسے موقع پر اپنی ایک رپورٹ میں یہ سنگین اور تشویشناک دعویٰ کیا ہے کہ جب چینی صدر شی پنگ کو ابھی امریکہ کے دورے پر پہنچے ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں ، اور جنکے استقبال کے لیے غیر روایتی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف خود ائرپورٹ گئے بلکہ ان کا جہاز کی سیڑھیوں کے پاس جاکر واشنگٹن پہنچنے پر استقبال کیا ، رپورٹ کے مطابق ایرانی کسٹمز کے اعداد و شمار میں جنوری 2025 سے جون 2026 کے اختتام تک تقریباً 1,300 ایسی کھیپوں کا ریکارڈ سامنے آیا ہے جو ایران کی وزارت دفاع تک پہنچیں اور جن میں ایسے دوہرے استعمال کے پرزے شامل تھے جو عام صنعتی مقاصد کے علاوہ ڈرونز اور میزائلوں کی تیاری میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان کھیپوں میں جی پی ایس آلات، الیکٹرک موٹرز، طیاروں کے انجن کے پرزے اور مختلف الیکٹرانک اجزا شامل تھے،رپورٹ میں بعض چینی سپلائی کو ایران کے شاہد ڈرون پروگرام میں استعمال ہونے والے اجزا سے بھی جوڑا گیا ہے
تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوران بھی چین سے ایران کو حساس سامان کی ترسیل جاری رہی،ایک جنگ بندی کے دن چین سے تہران پہنچنے والی پرواز میں ایسے الیکٹرانک اجزا موجود تھے جو ڈرونز اور میزائلوں کے رہنمائی نظام میں استعمال ہوسکتے ہیں، جبکہ دو روز بعد 6 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کی مزید کھیپیں ایران پہنچیں
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چینی کمپنیوں، بینکوں اور فرنٹ کمپنیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ایران کو امریکی پابندیوں کے باوجود تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے،اسی کے ساتھ چین سے ایران کو ایسے کیمیائی مواد کی فراہمی کا بھی ذکر ہے جو بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوسکتا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق چین نے ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا اعلان کیا، حتیٰ کہ چینی حکام کے مطابق صدر شی جن پنگ نے بھی جنگ بندی کے لیے تجاویز دیں، لیکن دوسری طرف چینی تجارتی اداروں سے ایران کو حساس صنعتی اور فوجی استعمال کے قابل سامان کی ترسیل جاری رہی
یاد رہے یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان تعلقات اور مذاکرات واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا اہم موضوع ہیں،امریکی حکام کی جانب سے ایران کو چین اور روس سے ملنے والی ممکنہ مدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے ماضی میں چین کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ شی جن پنگ پر اعتماد کرتے ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقات نے اس سوال کو نمایاں کردیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن بیجنگ کی ایرانی دفاعی صنعت کو پہنچنے والی مبینہ مدد سے کس طرح نمٹے گا





