کینیڈا کی آبادی میں اضافہ 80 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
کینیڈا کی آبادی میں اضافے کی رفتار تیزی سے کم ہو رہی ہے اور تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران ملک کی آبادی میں صرف 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً 80 سال میں جولائی سے جولائی کے عرصے کے دوران آبادی میں اضافے کی کم ترین شرح ہے۔m شماریات کینیڈا کے مطابق 1 جولائی 2026 کو کینیڈا کی مجموعی آبادی 41,798,407 تک پہنچ گئی، یعنی ایک سال میں 189,425 افراد کا اضافہ ہوا
آبادی میں اضافے کی رفتار میں یہ کمی گزشتہ چند برسوں کے رجحان کے بالکل برعکس ہے۔ 2022 اور 2023 کے دوران آبادی میں سالانہ اضافہ 2.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا جبکہ 2023 سے 2024 کے دوران یہ شرح 2.8 فیصد رہی، جو حالیہ دور کی بلند ترین شرح تھی اس کے بعد رفتار مسلسل کم ہوئی اور 2024 سے 2025 کے دوران 1.1 فیصد رہ گئی، جبکہ جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران صرف 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
صرف اپریل سے جولائی 2026 کے 3 ماہ میں کینیڈا کی آبادی 80,343 افراد بڑھی، جو 0.2 فیصد اضافہ ہے شماریات کینیڈا کے مطابق یہ 2020 میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد کسی دوسری سہ ماہی میں آبادی میں اضافے کی سب سے کم شرح ہے ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں آبادی کی رفتار میں آنے والی بڑی تبدیلیاں تقریباً مکمل طور پر بین الاقوامی نقل مکانی کے رجحانات میں تبدیلی سے منسلک ہیں
آبادی میں کمی کی رفتار کا ایک اہم سبب عارضی رہائشیوں کی تعداد میں نمایاں کمی بھی ہے۔ 1 جولائی 2026 تک کینیڈا میں غیر مستقل رہائشیوں کی تعداد 2,779,774 تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 154,614 کم ہے ان افراد کا مجموعی آبادی میں حصہ اب 6.7 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ اکتوبر 2025 میں یہ شرح 7.2 فیصد تھی۔ سب سے نمایاں کمی اسٹڈی پرمٹ رکھنے والے افراد اور کام کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے افراد میں ہوئی
مستقل رہائش کے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی ہے اپریل سے جون 2026 کے دوران کینیڈا میں 99,148 نئے Immigrants آئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 103,527 کے مقابلے میں 4.2 فیصد کم ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا میں بین الاقوامی نقل مکانی کا مجموعی حجم اس سطح پر نہیں رہا جو چند سال پہلے آبادی میں تیز اضافے کا بنیادی ذریعہ بن رہا تھا
اس تبدیلی کے ساتھ کینیڈا کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ بھی ہو رہی ہے۔ 1 جولائی 2026 تک 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد ملک کی مجموعی آبادی کا 20 فیصد ہو چکے ہیں، جبکہ 0 سے 14 سال عمر کے بچوں کا حصہ صرف 15 فیصد ہے ملک کی اوسط عمر 42.1 سال اور درمیانی عمر 40.9 سال تک پہنچ گئی ہے شماریات کینیڈا کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں بین الاقوامی نقل مکانی میں تبدیلی کے باعث آبادی کی عمر میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا ہے
پیدائش کی شرح بھی کینیڈا کے مستقبل کے لیے ایک اہم مسئلہ بن رہی ہے۔ 2025 میں فی خاتون بچوں کی اوسط تعداد صرف 1.26 رہی، جو طویل عرصے سے کم ہوتی ہوئی شرح پیدائش کی عکاسی کرتی ہے اگرچہ 2025 میں 372,521 بچوں کی پیدائش ہوئی جو 2024 کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ تھی، لیکن مجموعی شرح پیدائش آبادی کو قدرتی طور پر موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے درکار شرح سے کافی کم ہے
آبادی میں تبدیلی صوبوں کے درمیان بھی یکساں نہیں رہی البرٹا نے 1.5 فیصد آبادی میں اضافے کے ساتھ سب سے تیز رفتار نمو ریکارڈ کی، جبکہ برٹش کولمبیا میں اضافہ صرف 0.1 فیصد رہا نارتھ ویسٹ ٹیریٹریز واحد علاقہ تھا جہاں آبادی میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
یہ اعداد و شمار کینیڈا کی معیشت، روزگار، رہائش، صحت کے نظام، تعلیم اور مستقبل کی افرادی قوت کے لیے اہم ہیں ایک طرف آبادی میں سست اضافہ رہائش اور بنیادی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کر سکتا ہے، لیکن دوسری طرف تیزی سے عمر رسیدہ آبادی اور کم شرح پیدائش کے باعث مستقبل میں کام کرنے والی عمر کے افراد کی تعداد، ٹیکس آمدنی اور صحت و پنشن کے اخراجات کے درمیان توازن ایک بڑا پالیسی مسئلہ بن سکتا ہے
موجودہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کینیڈا کی آبادی میں حالیہ برسوں کا غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر بین الاقوامی نقل مکانی سے وابستہ تھا اور اب حکومت کی جانب سے غیر مستقل رہائشیوں کی تعداد کم کرنے اور نقل مکانی کی رفتار میں تبدیلی کے ساتھ آبادی کی مجموعی رفتار بھی نمایاں طور پر سست ہو گئی ہے تاہم کینیڈا کی مجموعی آبادی اب بھی بڑھ رہی ہے اور 1 جولائی 2026 تک 41.8 ملین کے قریب پہنچ چکی ہے





