Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنی نے امریکا کی جانب سے کینیڈا پر فوجی حملے سے نمٹنے کی تیاری کر لی

کارنی نے امریکا کی جانب سے کینیڈا پر فوجی حملے سے نمٹنے کی تیاری کر لی

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایک ایسے انتہائی سنگین اور غیر معمولی خطرے کے لیے بھی تیاری کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی مرحلے پر کینیڈا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں امریکی میڈیا سے گفتگو میں کارنی نے اس صورتحال کو ایک ’’انتہائی خطرناک خطرہ‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ایسا حملہ ہونے والا ہے یا امریکا نے کینیڈا کے خلاف کوئی فوجی فیصلہ کر لیا ہے
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے دو قریبی اتحادیوں کینیڈا اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں غیر معمولی دباؤ کا شکار ہیں دونوں ملک نیٹو کے رکن ہیں، طویل عرصے سے دفاعی شراکت دار ہیں اور ان کی سرحد دنیا کی طویل ترین غیر فوجی سرحدوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بار بار بات، تجارتی محصولات اور کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق بیانات نے اوٹاوا میں قومی سلامتی کے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے
کارنی کے مطابق خطرے کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان جنگ ناگزیر ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کے رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود مسلسل رابطہ رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوٹاوا ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف بدترین ممکنہ صورتحال کے لیے اپنی دفاعی اور قومی سلامتی کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے
امریکا کی جانب سے کینیڈا پر فوجی کارروائی کا تصور بظاہر ناقابل تصور لگتا ہے، لیکن اس کی ایک تاریخی بنیاد بھی موجود ہے تقریباً ایک صدی قبل امریکی فوج نے ’’وار پلان ریڈ‘‘ کے نام سے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا تھا جس میں برطانیہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں کینیڈا کو ایک اہم جنگی محاذ تصور کیا گیا تھا۔ 1930 میں مکمل ہونے والے اس منصوبے میں کینیڈا کے اہم شہروں، بندرگاہوں، ریلوے اور صنعتی مراکز پر حملے سمیت مختلف فوجی کارروائیوں کا تصور پیش کیا گیا تھا امریکی نیشنل آرکائیوز کے مطابق اس منصوبے میں کینیڈا پر حملے کو برطانیہ کے خلاف ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوجی حکمت عملی کا حصہ سمجھا گیا تھا
یہ منصوبہ آج کی امریکی پالیسی کا ثبوت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کا دوبارہ زیر بحث آنا اس لیے اہم ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ عرصے میں کینیڈا کو امریکا کا حصہ بنانے کی بات بار بار کی ہے۔ 2025 میں ٹرمپ نے کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم اسی دوران انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کینیڈا کو امریکا میں شامل کرنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنا انتہائی غیر متوقع ہے
موجودہ کشیدگی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں گزشتہ ماہ تعطل پیدا ہوا جس کے بعد واشنگٹن نے کینیڈین مصنوعات کے ایک حصے پر 50 فیصد تک محصولات عائد کیے جبکہ اوٹاوا نے بھی جوابی اقدامات کیے۔ کارنی نے اس کے بعد واضح کیا کہ کینیڈا مستقبل میں اپنی معیشت اور قومی سلامتی کو صرف امریکا کے ساتھ پرانے تعلقات پر منحصر نہیں رکھ سکتا اور اسے دوسرے عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا ہوں گے
اسی پالیسی کے تحت کینیڈا نے حالیہ عرصے میں یورپ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی ہے ستمبر میں کارنی نے برطانیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری مزید مضبوط کرنے اور جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دینے کا اعلان کیا۔ کینیڈا پہلے ہی اپنی دفاعی صلاحیت اور شمالی و آرکٹک علاقوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے
کینیڈا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی امریکا کے ساتھ تقریباً ہر شعبے میں گہری وابستگی ہے تجارت، توانائی، دفاع، سپلائی چین، صنعت اور سرحدی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسی لیے امریکا کے ساتھ کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کینیڈین معیشت، روزگار، تجارت اور روزمرہ زندگی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں
تاہم موجودہ صورتحال کو جنگ کی پیش گوئی سمجھنا درست نہیں ہوگا کارنی کا بیان بنیادی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کینیڈین حکومت نے انتہائی خراب صورتحال کو بھی اپنی قومی سلامتی کی منصوبہ بندی میں شامل کر لیا ہے دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی اور دفاعی رابطے اب بھی برقرار ہیں اور امریکا کی جانب سے کینیڈا پر حملے کا کوئی اعلان یا ایسا فیصلہ سامنے نہیں آیا
یوں ایک ایسے وقت میں جب کینیڈا اور امریکا ایک دوسرے کے سب سے قریبی پڑوسی اور تاریخی اتحادی ہیں، وزیراعظم کارنی کا یہ اعتراف اس بات کی علامت ضرور ہے کہ اوٹاوا اب امریکا کے ساتھ تعلقات کو پہلے جیسی مکمل یقین دہانی کے ساتھ نہیں دیکھ رہا تقریباً ایک صدی پرانے امریکی جنگی منصوبے کی تاریخ اور موجودہ سیاسی کشیدگی نے اس خدشے کو ایک نیا پس منظر دے دیا ہے، اگرچہ عملی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا کوئی اعلان یا فیصلہ موجود نہیں

قومی خبریں سے مزید