میٹا کی اے آئی عینکیں، سہولت کے ساتھ پرائیویسی کا سوال
میٹا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ اے آئی سے لیس سمارٹ عینکوں کو مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، تاہم ان عینکوں سے لوگوں کی پرائیویسی کے بارے میں خدشات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ میٹا کے سالانہ کنیکٹ اجلاس میں نئی اے آئی مصنوعات اور عینکوں سے متعلق منصوبوں کا اعلان کرنے والے ہیں
میٹا کی رے بین اے آئی عینکیں عام چشموں جیسی دکھائی دیتی ہیں لیکن ان میں کیمرا، مائیکروفون اور اے آئی معاون شامل ہیں صارف ان کے ذریعے تصاویر اور ویڈیو بنا سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے، فون کال کر سکتا ہے اور اے آئی سے مختلف سوالات پوچھ سکتا ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی میں ہاتھ استعمال کیے بغیر کئی کام کرنے میں مدد دیتی ہے
اصل تنازع عینکوں میں موجود کیمرے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عینکیں بظاہر عام چشموں جیسی ہونے کے باعث کسی دوسرے شخص کی لاعلمی میں تصویر یا ویڈیو بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں بعض مقامات نے پرائیویسی اور ریکارڈنگ کے خدشات کے باعث ان کے استعمال پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جبکہ امریکا اور یورپ میں حکام اور پرائیویسی ماہرین کی جانب سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے
میٹا کا کہنا ہے کہ عینکوں میں ایک سفید روشنی موجود ہے جو کیمرا فعال ہونے پر جلتی اور ریکارڈنگ کے دوران چمکتی رہتی ہے تاکہ آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ریکارڈنگ ہو رہی ہے کمپنی نے یہ حفاظتی نظام مزید سخت کرتے ہوئے کیمرے کی روشنی کو چھیڑنے یا خراب کرنے کی صورت میں کیمرا بند کرنے کا نظام بھی متعارف کرایا ہے
تاہم پرائیویسی کا معاملہ صرف خفیہ ریکارڈنگ تک محدود نہیں حالیہ قانونی کارروائیوں میں بعض صارفین نے الزام لگایا ہے کہ سمارٹ عینکوں سے بنائی گئی انتہائی نجی تصاویر اور ویڈیوز اے آئی کی تربیت کے لیے کام کرنے والے بیرون ملک افراد تک پہنچیں۔ یہ الزامات عدالت میں زیر سماعت ہیں اور میٹا نے مختلف مواقع پر اپنے پرائیویسی حفاظتی اقدامات کی وضاحت کی ہے
میٹا کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اے آئی عینکوں کو عام صارفین میں مقبول بنانے کے ساتھ لوگوں کا اعتماد بھی برقرار رکھے دوسری جانب کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی سمارٹ عینکوں اور اے آئی پر مبنی پہننے والی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، اس لیے پرائیویسی اور رضامندی کے سوالات اس نئی ٹیکنالوجی کے مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں






