پاکستان کا درمیانہ طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرتے کرتے شدید مالی مشکلات کا شکار
پاکستان کا درمیانہ طبقہ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، تعلیم، علاج، رہائش اور روزمرہ ضروریات کے بڑھتے اخراجات کے باعث مسلسل مالی دباؤ میں ہے ایک عام ملازمت پیشہ خاندان کے لیے آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق اتنا کم رہ گیا ہے کہ اچانک بیماری، بے روزگاری یا کسی بڑے غیر متوقع خرچ کی صورت میں پورا گھریلو بجٹ متاثر ہو سکتا ہے
حالیہ گھریلو اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024،25 میں پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی تقریباً 82,179 روپے جبکہ اوسط ماہانہ اخراجات 79,150 روپے رہے یعنی دونوں کے درمیان اوسط فرق صرف تقریباً 3,000 روپے بنتا ہے اس معمولی فرق سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عام خاندان کے لیے بچت کرنا یا کسی ہنگامی صورتحال کے لیے رقم محفوظ رکھنا کتنا مشکل ہو چکا ہے
مسئلہ صرف مہنگائی تک محدود نہیں بجلی کے نرخ، مختلف سرچارجز اور توانائی کے بڑھتے اخراجات نے گھریلو بجٹ پر مستقل دباؤ ڈال دیا ہے بجلی اب صرف روشنی کے لیے نہیں بلکہ گرمی سے بچاؤ، پانی کی فراہمی، خوراک محفوظ رکھنے، گھر سے کام کرنے اور بچوں کی تعلیم سمیت روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے اسی لیے بجلی کا بڑھتا ہوا بل درمیانے طبقے کے لیے سب سے بڑے مستقل اخراجات میں شامل ہو گیا ہے
پانی بھی کئی شہری خاندانوں کے لیے اضافی مالی بوجھ بن چکا ہے خصوصاً کراچی جیسے شہروں میں سرکاری پانی کی فراہمی ناکافی ہونے کی صورت میں لوگوں کو ٹینکر یا خریدے ہوئے پانی پر مزید رقم خرچ کرنا پڑتی ہے یوں ایک ہی بنیادی ضرورت کے لیے شہریوں کو سرکاری نظام پر انحصار کے ساتھ نجی طور پر بھی ادائیگی کرنا پڑتی ہے
تعلیم اور صحت کے اخراجات نے بھی خاندانوں کی مالی مشکلات بڑھا دی ہیں بہت سے والدین بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے نجی اسکولوں کی فیس ادا کرتے ہیں، جبکہ علاج کے لیے نجی اسپتالوں اور کلینکس سے رجوع کرنا پڑتا ہے فیس، ادویات، ٹیسٹ اور دیگر طبی اخراجات کسی ایک بیماری کی صورت میں کئی ماہ کی بچت ختم کر سکتے ہیں
رہائش بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بڑے شہروں میں کرایوں میں اضافہ، گھر خریدنے کے لیے بھاری رقم اور تعمیراتی اخراجات نے درمیانے طبقے کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے جن خاندانوں کے پاس پہلے سے گھر ہے وہ بھی مرمت، بجلی، پانی اور دیگر گھریلو اخراجات میں اضافے سے متاثر ہو رہے ہیں
ٹیکس کا بوجھ بھی اس طبقے کی مشکلات میں اہم کردار ادا کرتا ہے تنخواہ دار افراد کی آمدنی عموماً دستاویزی ہونے کی وجہ سے ان سے ٹیکس وصول کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے دوسری جانب معیشت کے ایسے شعبے بھی موجود ہیں جہاں آمدنی کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دینا اور مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنا زیادہ مشکل ہے اس صورتحال سے تنخواہ دار طبقے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ باقاعدہ آمدنی رکھنے والے شہریوں پر مالی ذمہ داری کا زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ شہری بہت سی بنیادی سہولتوں کے لیے سرکاری نظام پر انحصار کے باوجود ان کے نجی متبادل خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ نجی اسکول، نجی علاج، بوتل کا پانی، نجی آمدورفت اور بجلی کے متبادل ذرائع اسی اضافی مالی دباؤ کی مختلف شکلیں ہیں
نوجوانوں کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں رہی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب ملازمت، اچھی آمدنی، اپنا گھر اور مستقبل کے لیے بچت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اسی وجہ سے بیرون ملک جانے کا رجحان بھی صرف بہتر روزگار کی خواہش تک محدود نہیں بلکہ بہت سے نوجوان اسے معاشی تحفظ حاصل کرنے کے راستے کے طور پر دیکھتے ہیں
دوسری طرف اس معاشی دباؤ کا اثر غریب خاندانوں پر مزید شدید ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس مہنگی نجی سہولتیں حاصل کرنے کی گنجائش بھی کم ہوتی ہے ایک طرف درمیانہ طبقہ اپنی آمدنی سے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تو دوسری طرف کم آمدنی والے خاندان معمولی مالی جھٹکے سے بھی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں
پاکستان کے لیے چیلنج صرف مہنگائی کم کرنا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جہاں شہریوں کو تعلیم، صحت، پانی، بجلی، رہائش اور آمدورفت جیسی بنیادی ضروریات کے لیے بار بار مہنگے نجی متبادل خریدنے کی ضرورت نہ پڑے اگر آمدنی میں اضافہ روزمرہ اخراجات میں اضافے کے ساتھ برابر نہ ہو تو معاشی اعداد و شمار میں بہتری کے باوجود عام خاندان کی زندگی میں مالی دباؤ برقرار رہ سکتا ہے





