ریاض پر حوثیوں کا میزائل حملہ، مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑے تصادم کا امریکی خدشہ
امریکا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران نواز حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کسی بھی وقت تیزی سے مزید شدت اختیار کر سکتی ہے،یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جو یمن کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ریاض پر پہلا براہ راست حملہ ہے
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ موجودہ فوجی تنازعہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ سے باہر موجود امریکی شہریوں کو خطے کے سفر اور وہاں سے گزرنے کے اپنے منصوبوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے،اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں جاری اپنا ویک اینڈ پروگرام مختصر کرکے ہفتے کے روز اچانک وائٹ ہاؤس واپسی کی،وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ان کی قبل از وقت واپسی کی کوئی وجہ نہیں بتائی
ریاض میں ہفتے کی صبح فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا اور رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی،بعد ازاں شہر میں دو زور دار دھماکے سنے گئے جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخیرے سے سیاہ دھوئیں کے بادل اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے،اے ایف پی کے مطابق وہاں موجود ایک فیول ٹینک پر سعودی آئل کمپنی آرامکو کا لوگو بھی نمایاں تھا
سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے تصدیق کی کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا،سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے بشہ، طائف، فرسان اور بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ ینبع سمیت دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ان حملوں کو بھی روک دیا گیا
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز استعمال کرتے ہوئے ریاض میں حساس تنصیبات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا،ان کے مطابق یہ کارروائیاں یمن میں سعودی حملوں کے جواب میں کی گئیں،ان دعوؤں کے بعض حصوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز پر دباؤ بڑھا دیا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی تیل کی برآمدات اور بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے
واشنگٹن کے لیے صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ سعودی عرب پہلے ہی حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کا خواہاں رہا ہے، جبکہ امریکا نے حالیہ دنوں میں ریاض کے لیے 48 ایف-35 جنگی طیاروں کی 24.3 ارب ڈالر کی فروخت کی منظوری دی ہے،یوں ریاض پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں ایران، سعودی عرب، یمن اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی کئی محاذوں پر پھیل چکی ہے





