میلانوما ویکسین کی کامیابی کے بعد کینسر کے علاج میں انقلاب کی امید، پھیپھڑے اور لبلبے کے سرطان اگلا ہدف

میلانوما ویکسین کی کامیابی کے بعد کینسر کے علاج میں انقلاب کی امید، پھیپھڑے اور لبلبے کے سرطان اگلا ہدف

جلد کے خطرناک سرطان میلانوما کے دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے کے لیے تیار کی جانے والی تجرباتی mRNA ویکسین کے کامیاب تجربے نے کینسر کے علاج کے ایک نئے دور کی امید پیدا کر دی ہے،ماہرین کے مطابق اسی ٹیکنالوجی کو اب پھیپھڑوں، لبلبے اور دیگر سرطانوں کے خلاف بھی آزمایا جا رہا ہے
امریکی دوا ساز کمپنیوں Moderna اور Merck نے رواں موسم گرما میں اعلان کیا تھا کہ ان کی تیار کردہ کینسر ویکسین intismeran autogene نے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں میلانوما کے دوبارہ ہونے کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے،ماہرین نے اس نتیجے کو mRNA پر مبنی کینسر کے علاج کی پیش رفت قرار دیا ہے
اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ ویکسین ہر مریض کے سرطان کے مطابق تیار کی جا سکتی ہے،مریض کے ٹیومر کا نمونہ لے کر اس میں موجود مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، پھر mRNA پر مبنی ویکسین اس طرح تیار کی جاتی ہے کہ مدافعتی نظام انہی مخصوص تبدیلیوں کو نشانہ بنا سکے
یعنی روایتی ایک ہی دوا سب مریضوں کے لیے استعمال کرنے کے بجائے مستقبل میں ہر مریض کے سرطان کے لیے الگ ویکسین تیار کرنے کا تصور عملی شکل اختیار کر سکتا ہے
اب یہی طریقہ پھیپھڑوں اور لبلبے کے سرطان سمیت کئی دیگر بیماریوں میں زیرِ تحقیق ہے،اگر ان تجربات میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو mRNA ٹیکنالوجی کینسر کے علاج میں ایک ایسے طریقہ کار کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں مریض کے اپنے ٹیومر کی جینیاتی خصوصیات کو علاج کی تیاری کا مرکز بنایا جائے گا
تاہم ماہرین کے مطابق میلانوما کے کلینیکل ٹرائل کے مثبت نتائج کو دوسرے سرطانوں پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا،ہر سرطان کی حیاتیاتی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں اور نئی ویکسینز کی افادیت اور حفاظت کو ثابت کرنے کے لیے الگ الگ بڑے پیمانے کے کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے

قومی خبریں سے مزید