امریکا سے افریقی ملک ڈی پورٹ کیے گئے لاطینی تارکین وطن قانونی بحران میں پھنس گئے
امریکی حکومت کی جانب سے لاطینی امریکی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ملک وسطی افریقی جمہوریہ بھیجنے کا معاملہ نئے تنازعہ کا باعث بن گیا ہے، جہاں پہنچنے والے بعض تارکین وطن کا کہنا ہے کہ وہ نہ قانونی دستاویزات رکھتے ہیں، نہ آزادانہ طور پر ملک چھوڑ سکتے ہیں اور نہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں واضح معلومات دی گئی ہیں،اے بی سی نیوز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 25,000 افراد کو مختلف تیسرے ممالک بھیجے جانے کی اطلاع ہے
ان میں 32 سالہ کیوبا کے شہری یسمانی مورینو دے آرماس بھی شامل ہیں، جو تقریباً ایک دہائی قبل کیوبا چھوڑ کر امریکا پہنچے تھے،وہ میامی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے اور ایک گوشت پیکنگ پلانٹ میں کام کرتے تھے،گزشتہ مئی میں امیگریشن حکام نے انہیں حراست میں لے لیا، اس وقت وہ پناہ کی درخواست کے ذریعے قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے
مورینو کے مطابق انہیں مختلف حراستی مراکز منتقل کرنے کے بعد لوزیانا سے ایک پرواز میں بٹھایا گیا،انہیں ابتدا میں بتایا گیا کہ یہ ایک اور منتقلی ہے، لیکن پرواز کے تقریباً دو گھنٹے بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں افریقہ کے ایک ملک لے جایا جا رہا ہے،انہوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ انہیں یہ بات پہلے جھوٹ محسوس ہوئی
وسطی افریقی جمہوریہ میں پہنچنے والے دیگر لاطینی تارکین وطن نے بھی کہا کہ ان کے پاس پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات نہیں ہیں،کیوبا کے ایک اور تارک وطن ارسٹیدس فرنانڈیز گارسیا نے کہا کہ ان کے پاس وہاں کا ویزا یا قانونی کاغذات نہیں اور وہ ملک سے باہر جانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں
امریکی امیگریشن قوانین بعض حالات میں ایسے تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں جنہیں ان کے آبائی ملک میں واپسی پر خطرات لاحق ہوں یا جن کا آبائی ملک انہیں قبول نہ کر رہا ہو،امیگریشن ماہرین کے مطابق تیسرے ممالک میں ڈی پورٹیشن پہلے بھی ہوتی رہی ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں مختلف ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے اس عمل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،نئے مقامات میں لائبیریا، گھانا، وسطی افریقی جمہوریہ اور سیرا لیون شامل ہیں
وسطی افریقی جمہوریہ کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اپنے شہریوں کو وہاں سفر نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے اور مسلح بدامنی، جرائم، اغوا، بارودی سرنگوں اور دہشت گردی سمیت مختلف خطرات کی نشاندہی کرتا ہے،تاہم امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ مورینو اور دیگر افراد کو ایک محفوظ ملک بھیجا گیا ہے اور حکومت قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے
امیگرنٹ حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ کے مطابق تیسرے ممالک کو ڈی پورٹیشن کے لیے استعمال کرنے کے معاہدوں پر امریکی حکومت نے تقریباً 50 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں،تنظیم کے عہدیداروں نے ان کارروائیوں میں قانونی طریقہ کار اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں موجودہ امیگریشن قوانین کے تحت کی جا رہی ہیں





