سانحہ نائن الیون کے بعد امریکی یونیورسٹیز میں مسلم چیپلنز کی تعداد بڑھی، 7 اکتوبر کے بعد نئی آزمائش شروع ہوگئی

سانحہ نائن الیون کے بعد امریکی یونیورسٹیز میں مسلم چیپلنز کی تعداد بڑھی، 7 اکتوبر کے بعد نئی آزمائش شروع ہوگئی

نیویارک:امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد مسلم طلبہ کی مذہبی اور روحانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعات میں مسلم چیپلنز اور اسلامی مراکز کے قیام میں اضافہ ہوا، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ اور امریکی جامعات میں ہونے والے مظاہروں نے ان مراکز اور ان سے وابستہ مسلم طلبہ کے لیے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،مذہبی امور سے متعلق رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکا کی جامعات میں تقریباً 80 کل وقتی مسلم چیپلنز خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ 25 سال پہلے ایسے عہدے بہت کم تھے اور زیادہ تر رضاکارانہ یا جز وقتی بنیاد پر ہوتے تھے
نیو جرسی کی رٹگرز یونیورسٹی اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے،یونیورسٹی کی 47,000 طلبہ کی آبادی میں تقریباً 6,000 مسلمان ہونے کا اندازہ ہے، اگرچہ جامعات طلبہ سے مذہبی شناخت کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرتیں، اس لیے یہ تعداد قطعی نہیں،رٹگرز میں سینٹر فار اسلامک لائف 2010 میں طلبہ، سابق طلبہ اور مقامی مسلم کمیونٹی کی کوششوں سے قائم ہوا اور 2015 میں مرکز نے یونیورسٹی کی رضامندی سے آزادانہ طور پر ایک کل وقتی مسلم چیپلن مقرر کیا
رٹگرز کی طالبہ سارہ عبدالمجید، جو سیاسیات میں جونیئر ہیں، روزانہ یونیورسٹی کے اس اسلامی مرکز میں وقت گزارتی ہیں، جہاں وہ اسلامی تعلیمات کی کلاس لیتی ہیں، مطالعہ کرتی ہیں اور مرکز کے لیے مارکیٹنگ انٹرن کے طور پر بھی کام کرتی ہیں،ان کے مطابق مسلم طلبہ کے لیے ایسا مقام ان کی مذہبی شناخت اور وابستگی کے احساس کو مضبوط کرتا ہے
رپورٹ کے مطابق رٹگرز کے ماڈل کو الینوائے، مشی گن، نیویارک، ٹیکساس اور کیلیفورنیا کی بعض سرکاری جامعات نے بھی اپنایا ہے،سرکاری جامعات براہ راست مذہبی بنیاد پر چیپلنز کو ملازمت نہیں دے سکتیں، اس لیے بعض مقامات پر مسلم کمیونٹی، طلبہ اور سابق طلبہ کے عطیات سے یہ مراکز اور چیپلنز چلائے جا رہے ہیں
تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد غزہ میں جنگ نے امریکی جامعات میں مسلم شناخت سے متعلق بحث کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا،مسلم چیپلنز کے مطابق فلسطین کے حق میں طلبہ کے احتجاج، کیمپس کیمپوں اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کے خلاف مظاہروں کے بعد مسلم طلبہ اور چیپلنز کو اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ، طلبہ اور والدین کے مختلف مطالبات کے درمیان کام کرنا پڑ رہا ہے،بعض چیپلنز نے دھمکیوں، آن لائن ذاتی معلومات افشا کیے جانے، ہراسانی اور توڑ پھوڑ کی شکایات بھی بیان کی ہیں
رٹگرز کے مسلم چیپلن قیصر اسلم کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد بہت سے مسلم طلبہ کو اپنی مذہبی شناخت کے حوالے سے یہ احساس زیادہ شدت سے ہوا کہ دوسرے لوگ ان کے مذہبی خیالات یا شناخت کو مختلف انداز سے دیکھ سکتے ہیں،اسی پس منظر میں مسلم چیپلنز کا کہنا ہے کہ ان کے مراکز طلبہ کو مذہبی تعلیم کے ساتھ جذباتی اور روحانی سہارا فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید