پاکستان میں نئے صوبوں کی بازگشت، کیا ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے کا وقت آگیا؟

پاکستان میں نئے صوبوں کی بازگشت، کیا ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے کا وقت آگیا؟

پاکستان میں ملک کی انتظامی اور سیاسی ساخت کو تبدیل کرنے اور موجودہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز نے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں مجوزہ منصوبے کے تحت ملک میں متعدد نئے صوبے بنانے کی بات کی جا رہی ہے، تاہم اس منصوبے کی وجوہات، طریقہ کار اور اس کے ممکنہ سیاسی و سماجی اثرات پر اب تک واضح اتفاق رائے سامنے نہیں آیا
اس منصوبے کے حامیوں کی جانب سے خراب طرز حکمرانی، بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ نظام کی ناکامیوں کو نئی انتظامی اکائیوں کی ضرورت کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے تاہم یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے حکمرانی بہتر ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں بڑے صوبے یا ریاستیں مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں جبکہ بعض ممالک میں چھوٹی اور زیادہ انتظامی اکائیاں ہونے کے باوجود سیاسی اور حکومتی مسائل برقرار ہیں
تجزیے کے مطابق کسی ریاست کی کارکردگی صرف اس کے صوبوں کی تعداد سے طے نہیں ہوتی بلکہ سیاسی نظام کی قانونی حیثیت اور کارکردگی، قیادت کی صلاحیت اور اداروں کی مضبوطی بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے پاکستان میں جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ہزارہ خطے کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز کو ماضی میں سیاسی حمایت بھی مل چکی ہے اور پنجاب و خیبر پختونخوا اسمبلیاں اس حوالے سے قراردادیں منظور کر چکی ہیں، تاہم یہ تجاویز عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں
نئے صوبوں کی مجوزہ تشکیل کے معاملے پر سیاسی جماعتوں میں بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہے بعض سیاسی جماعتیں اور سندھ اسمبلی صوبوں کی موجودہ حدود میں بڑی تبدیلی کی مخالفت کر چکی ہیں، جبکہ حکومت کے اندر بھی اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں اسی وجہ سے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے، لیکن آئینی ماہرین کے مطابق صرف ریفرنڈم کے ذریعے صوبوں کی ساخت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور اس کے لیے آئینی ترمیم کا تقاضا موجود رہے گا
اس بحث کا ایک اہم پہلو پاکستان کی مختلف لسانی، ثقافتی اور تاریخی شناختیں بھی ہیں صوبوں سے وابستہ لوگوں کی تاریخی اور ثقافتی وابستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے انتظامی حدود میں بڑی تبدیلیاں کرنے سے سیاسی اور سماجی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
ملک کو درپیش مسائل میں غربت، بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا، غذائی قلت، آلودہ پانی اور امن و امان کی خراب صورتحال بھی شامل ہیں اس لیے بحث یہ بھی ہے کہ انتظامی نقشہ تبدیل کرنے کے بجائے اداروں کو مضبوط، جواب دہ اور مؤثر بنایا جائے، قانون کی حکمرانی بہتر کی جائے اور نمائندہ سیاسی نظام کو مضبوط کیا جائے
اس معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ پاکستان کو بہتر حکمرانی کے لیے صرف نئی انتظامی حدود درکار ہیں یا موجودہ اداروں اور سیاسی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے صوبوں کی تعداد میں تبدیلی ایک بڑی آئینی اور سیاسی تبدیلی ہوگی، اس لیے اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور عوامی حمایت اہم عوامل ہوں گے

قومی خبریں سے مزید