امریکی پوسٹل سروس کے سربراہ ڈیوڈ اسٹینر مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں، مالی بحران اور سیاسی دباؤ سے مایوسی
واشنگٹن:امریکی پوسٹل سروس کے پوسٹ ماسٹر جنرل ڈیوڈ اسٹینر نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ عہدے سے مستعفی ہونے کے خواہش مند ہیں،رائٹرز کے مطابق چار ایسے افراد نے، جو ان کے خیالات سے واقف ہیں، بتایا کہ اسٹینر ادارے کے مسلسل مالی بحران، کانگریس کی جانب سے تنقید اور پوسٹل سروس کو میل ان ووٹنگ کے معاملے میں بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعہ کا مرکز بنائے جانے سے شدید مایوس ہیں،تاہم امریکی پوسٹل سروس نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں “بالکل کوئی صداقت نہیں”
اسٹینر نے جولائی 2025 میں پوسٹ ماسٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا،اس سے قبل وہ FedEx کے بورڈ کے رکن اور Waste Management کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں،ذرائع کے مطابق تقرری کے وقت انہوں نے پوسٹل سروس کے بورڈ کو بتایا تھا کہ وہ تقریباً دو سال تک اس عہدے پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں
رائٹرز کے مطابق اسٹینر کو سب سے بڑا مسئلہ ادارے کے طویل عرصے سے جاری مالی خسارے کا ہے،ان کا مؤقف رہا ہے کہ اضافی وفاقی مالی مدد کے بغیر پوسٹل سروس کو بعض ڈیلیوری سروسز کم کرنے اور خسارے میں چلنے والے پوسٹ آفس، خصوصاً دیہی علاقوں میں، بند کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے،تاہم کانگریس میں ان تجاویز کو وسیع حمایت حاصل نہیں ہوئی، جبکہ ڈاک اور پارسل کمپنیوں نے بھی خسارے کم کرنے کے لیے پوسٹل ریٹس میں بڑے اضافے پر اعتراض کیا ہے
اسٹینر کو جون 2026 میں سینیٹ کی سماعت کے دوران بھی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ارکان نے پوسٹل سروس کی ترسیل کی کارکردگی، مالی صورتحال، ان کی مراعات اور میل ان ووٹنگ سے متعلق معاملات پر ان سے سوالات کیے؟ذرائع کے مطابق اس سماعت کے بعد اسٹینر شدید برہم تھے اور قریبی ساتھیوں سے کہا کہ یہ ملازمت ان کی توقعات کے مطابق نہیں نکلی اور وہ عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں
پوسٹل سروس اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میل ان ووٹنگ سے متعلق پالیسی کا بھی اہم مرکز بن چکی ہے،ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں پوسٹل سروس کو میل بیلٹس سے متعلق بعض اقدامات میں کردار دینے کی کوشش کی، لیکن سپریم کورٹ نے پیر کو اس منصوبے کے اہم حصوں پر عمل درآمد روک دیا،اس فیصلے کے بعد بھی میل ان ووٹنگ کے طریقہ کار پر وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعہ جاری ہے
پوسٹ ماسٹر جنرل کا عہدہ براہ راست صدر کے ماتحت روایتی کابینہ کے عہدوں جیسا نہیں ہے،پوسٹل سروس کے سربراہ کی تقرری اور کارکردگی کا جائزہ بائی پارٹیزن بورڈ آف گورنرز کرتا ہے، جس کے ارکان صدر نامزد کرتے اور سینیٹ کی منظوری دیتی ہے،یہ انتظام اس لیے بنایا گیا تھا کہ ملک کے ڈاک کے نظام کو براہ راست سیاسی مداخلت سے کسی حد تک محفوظ رکھا جا سکے
رائٹرز کے مطابق اسٹینر کے ممکنہ استعفے کی خبر کی اس وقت سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی؟پوسٹل سروس نے واضح طور پر اسے مسترد کیا ہے، جبکہ اسٹینر نے خود رائٹرز کی درخواست پر ان اطلاعات کے بارے میں کوئی انٹرویو نہیں دیا،اس لیے فی الحال یہ معاملہ ذرائع کی فراہم کردہ معلومات اور ادارے کی تردید تک محدود ہے





