محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی پر ہراسانی روکنے میں ناکامی کا مقدمہ دائر کردیا، گرفتاری سے پہلے کے واقعات بھی عدالت میں زیر بحث

محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی پر ہراسانی روکنے میں ناکامی کا مقدمہ دائر کردیا، گرفتاری سے پہلے کے واقعات بھی عدالت میں زیر بحث

نیویارک :فلسطینی حامی سرگرمیوں کے باعث امریکی امیگریشن حکام کی کارروائی کا سامنا کرنے والے کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل نے یونیورسٹی، اس کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کی ڈین کیرن یارہی میلُو کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے،مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے فلسطینی حامی طلبہ کو مبینہ دھمکیوں، ہراسانی اور ان کی ذاتی معلومات افشا کیے جانے سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے اور شکایات کے باوجود ایسا ماحول برقرار رہنے دیا جس سے انہیں نقصان پہنچا
14 ستمبر 2026 کو مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کی گئی تقریباً 60 صفحات پر مشتمل درخواست میں خلیل اور دیگر مدعیان نے الزام لگایا کہ کولمبیا نے فلسطینی حامی طلبہ اور Palestine Working Group کے ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ،مقدمے میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان کو ڈوکسنگ، دھمکیوں اور آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یونیورسٹی نے ان شکایات پر مناسب کارروائی نہیں کی،مدعیان نے وفاقی شہری حقوق کے قوانین، بشمول Title VI of the Civil Rights Act of 1964، کی خلاف ورزی کا دعویٰ بھی کیا ہے
مقدمے کے مطابق فلسطین کے حامی طلبہ کے گروپ کو اکتوبر 2023 کے بعد خاص طور پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا،نیویارک ٹائمز کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان کے نام اور تصاویر، جو عام طور پر کولمبیا کے پاس ورڈ سے محفوظ نظام کے ذریعے دستیاب تھیں، ایک بیرونی تنظیم Accuracy in Media کے ہاتھ لگیں اور بعد میں یونیورسٹی کے کیمپس کے قریب ایک ٹرک پر طلبہ کی تصاویر کے ساتھ انہیں یہ کہہ کر بدنام کیا گیا کہ وہ “Columbia’s Leading Antisemites” ہیں،یہ تفصیلات مقدمے میں عائد الزامات کا حصہ ہیں
خلیل کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے مبینہ رویے نے بالآخر ان کے خلاف وفاقی امیگریشن کارروائی کے لیے حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا،وہ مارچ 2025 میں کولمبیا کے قریب اپنی رہائش گاہ کی لابی سے امیگریشن حکام کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے،اس وقت وہ گرین کارڈ ہولڈر تھے اور ان پر کوئی فوجداری جرم عائد نہیں کیا گیا تھا،انہیں 104 روز حراست میں رکھنے کے بعد جون 2025 میں رہا کیا گیا، اس دوران ان کے بچے کی پیدائش بھی ہوئی جس میں وہ شریک نہیں ہوسکے،ان کی ملک بدری کا معاملہ اب بھی قانونی کارروائی میں ہے
خلیل اس سے قبل بھی اپنے خلاف کارروائیوں پر قانونی جنگ لڑ چکے ہیں،انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور بعض اسرائیل نواز گروپوں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں ان کا مؤقف تھا کہ ان کے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش کی گئی،موجودہ مقدمے میں خلیل اور دیگر مدعیان مالی ہرجانے، فلسطینی حامی طلبہ گروپ کی معطلی ختم کرنے، خلیل کی کیمپس تک رسائی بحال کرنے اور یونیورسٹی کو مستقبل میں مبینہ امتیازی اقدامات سے روکنے کی درخواست کر رہے ہیں
دوسری جانب کولمبیا یونیورسٹی نے مقدمے کے مخصوص الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ کیمپس میں ہر فرد کے لیے ایسا ماحول قائم کرنا اس کی بنیادی ترجیح ہے جہاں طلبہ خود کو محفوظ اور معاون محسوس کریں اور امتیازی سلوک و ہراسانی کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے،یونیورسٹی نے خاص طور پر ڈین کیرن یارہی میلُو کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تمام پس منظر رکھنے والے طلبہ کی حمایت کی ہے
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کولمبیا یونیورسٹی فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر طویل عرصے سے جاری کیمپس تنازعہ کا مرکز رہی ہے،خلیل کا مقدمہ اب عدالت کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ یونیورسٹی نے فلسطینی حامی طلبہ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کی شکایات سے کس حد تک نمٹا اور کیا اس کا ردعمل وفاقی شہری حقوق کے قوانین کی حدود میں تھا،ان الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی

قومی خبریں سے مزید