سعودی حملوں اور حوثی میزائلوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کا نیا محاذ کھل گیا
دبئی:سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں حوثی اہداف پر شدید بمباری کی، جبکہ ایران سے منسلک حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے شہروں اور فوجی تنصیبات پر ڈرونز اور میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ ایک نئے محاذ تک پھیل گئی ہے،حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزائر بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے سعودی عرب کی اہم بحیرہ احمر بندرگاہ ینبع اور جنوبی شہر خمیس مشیط میں واقع ایئربیس پر ڈرون اور میزائل حملے کیے،دوسری جانب سعودی حکام نے کہا کہ ان کے فضائی دفاع نے منگل کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون مار گرایا، جس کے بارے میں ریاض کا کہنا ہے کہ وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا،حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے سعودی دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیا
امریکی حکومت نے بھی سعودی عرب کے حوالے سے سفری انتباہ سخت کرتے ہوئے اپنے سرکاری ملازمین کو یمن کی سرحد سے 20 میل کے اندر سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے،اس دوران حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز سے قبضے میں لیے گئے بکتر بند گاڑیوں کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جبکہ سعودی جنگی طیاروں کی یمن میں کارروائیاں جاری ہیں
اس پیش رفت نے عالمی توانائی کی ترسیل کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں،باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے، جبکہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی حالیہ حملوں کے بعد متاثر ہوئی ہے





