برنی سینڈرز کا ٹرمپ اور شی جن پنگ سے اے آئی کی دوڑ روکنے کے معاہدے کا مطالبہ
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ کریں اور انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت، جسے سپر انٹیلی جنس کہا جاتا ہے، کی تیاری پر پابندی عائد کرنے پر بات کریں
سینڈرز نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکا اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیش نظر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی آئندہ ملاقات کو اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے ان کا کہنا ہے کہ صرف مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنا کافی نہیں بلکہ جدید ترین اے آئی نظاموں کی تیاری کو عارضی طور پر روکنے کے لیے باقاعدہ معاہدے کی ضرورت ہے
سینڈرز کا یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے بعض سربراہان اور ٹیکنالوجی ماہرین نے بھی اے آئی کی ترقی کی رفتار کو قابو میں رکھنے اور حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے
سینڈرز نے خاص طور پر ایسی مصنوعی ذہانت کے خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے جو مستقبل میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل کر خود مختار طور پر کام کرنے کے قابل ہو سکتی ہے ان کے مطابق اگر ایسے نظام انسانی نگرانی سے باہر نکل گئے تو ان کے ممکنہ اثرات انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں
دوسری جانب ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکی برتری برقرار رکھنے کو اہم قرار دیا ہے اور اے آئی کی ترقی کو روکنے کے مطالبات کی مخالفت کی ہے امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی اے آئی کی ترقی روکنے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے چین کے مقابلے میں امریکی ٹیکنالوجی کی برتری برقرار رکھنے پر زور دیا ہے
سینڈرز اس سے قبل انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت پر مستقل پابندی اور اس کی ترقی کے لیے حفاظتی ضوابط سے متعلق قانون سازی کی حمایت بھی کر چکے ہیں ان کا تازہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کی عالمی دوڑ، اس کے ممکنہ خطرات اور امریکا و چین کے درمیان تکنیکی مسابقت اب بین الاقوامی پالیسی کا بھی اہم موضوع بن چکے ہیں






