امریکا سے تجارتی مذاکرات ختم کرنے کے سوا کینیڈا کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا: اسٹیفن ہارپر
کینیڈا کے سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے الگ ہونے کے سوا کینیڈا کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ان کے مطابق کینیڈا کو اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے امریکی معیشت پر انحصار کم کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی
ہارپر نے ٹورنٹو میں کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں کینیڈا کو امریکا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر نظرثانی کرنا اور اپنی معیشت کو زیادہ متنوع بنانا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو امریکا پر انحصار کم کرنے کے لیے دوسرے ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنا چاہییں
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان تجارتی کشیدگی برقرار ہے اگست میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات رک گئے تھے اور اس کے بعد کینیڈا نے بعض امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے
کارنی حکومت اب امریکا کے علاوہ دیگر عالمی منڈیوں میں کینیڈین تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دے رہی ہے کارنی اس وقت یورپ کے دورے پر ہیں جہاں وہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کینیڈا نے آئندہ 10 سال میں امریکا سے باہر اپنی تجارت دوگنی کرنے کا ہدف بھی پیش کیا ہے
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے بھی کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک نئی ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ حیثیت کی تجویز پیش کی ہے، تاہم یہ ابھی ایک تجویز ہے اور یورپی یونین کے موجودہ معاہدوں میں ایسی رکنیت کی باقاعدہ حیثیت موجود نہیں
ہارپر کا مؤقف موجودہ کینیڈا امریکا تجارتی تنازع میں اس وسیع بحث کا حصہ ہے کہ کینیڈا اپنی سب سے بڑی تجارتی منڈی پر انحصار کس حد تک کم کر سکتا ہے اور اس عمل کے دوران ملکی صنعت، روزگار اور تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے






