عدالتی حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواستوں پر فیصلہ نہ ہو سکا، سول سوسائٹی برہم
انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حضر اور ان کے شوہر و وکیل ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر مسلسل تاخیر نے سول سوسائٹی اور صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے دونوں اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی سزا کے خلاف اپیل کے دوران سزا معطل کرنے کی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 12 مئی 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو واضح ہدایت دی تھی کہ دونوں کی درخواستوں کا فیصلہ 2 ہفتوں کے اندر کیا جائے، تاہم یہ معاملہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود حل نہیں ہو سکا بار بار سماعت ملتوی ہونے کے باعث دونوں وکلا کو فوری عدالتی ریلیف حاصل نہیں ہو سکا
اس صورتحال پر متعدد سینئر صحافیوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ قانون میں موجود حقِ اپیل اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب شہری کو بروقت اور قابلِ عمل عدالتی انصاف بھی میسر ہو۔ ان کے مطابق مسلسل تاخیر بنیادی حقوق، آزادی، منصفانہ ٹرائل اور مؤثر قانونی داد رسی کے اصولوں کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک مقدمے میں سزا سنائی جا چکی ہے اور دونوں نے اپنی سزائیں معطل کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے استغاثہ کی جانب سے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے پہلے اس اعتراض پر فیصلہ کرنے کا عمل شروع کیا
سول سوسائٹی اور صحافتی شخصیات نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے میں مزید تاخیر نہ ہونے دی جائے اور سزا معطلی کی درخواستوں کو جلد سنا اور فیصلہ کیا جائے ان کا مؤقف ہے کہ انصاف صرف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا نام نہیں بلکہ شہری کو مقررہ وقت میں مؤثر قانونی تحفظ ملنا بھی ضروری ہے
اب اگلی سماعت 17 ستمبر کو مقرر ہے سول سوسائٹی کو امید ہے کہ اس موقع پر معاملے کو مزید ملتوی کرنے کے بجائے درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے گا تاکہ دونوں وکلا کے قانونی مستقبل اور آزادی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہو سکے





