سانحہ نائن الیون کے 25 سال بعد بھی امریکی دائیں بازو میں مسلمان ’دشمن‘، نیویارک میں نئی مسلم نسل کا ابھار
نیویارک: سانحہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے 25 سال مکمل ہونے کے باوجود امریکہ میں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ’دشمن‘ سمجھنے کا رویہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم نیویارک میں ایک نئی مسلم نسل اپنی شناخت، سیاست اور مستقبل کے حوالے سے ایک مختلف امریکی کہانی رقم کر رہی ہے
ایک تجزیے کے مطابق نیویارک میں جنوب مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والی نئی نسل تیزی سے اپنی ثقافتی اور سیاسی شناخت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے،اس وسیع خطے میں فلسطین سے ایران اور سوڈان تک کے ممالک شامل ہیں اور نیویارک میں اس پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک نئی شہری ثقافت تشکیل پا رہی ہے
اسی تناظر میں نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زوہران ممدانی کے خلاف 11 ستمبر کی یادگاری تقریب میں شرکت پر اعتراضات نے بھی ایک گہری بحث کو جنم دیا ہے،ناقدین کے بعض جذباتی ردعمل میں ممدانی کو ان 19 مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی جنہوں نے 2001 میں چار طیارے اغوا کرکے دہشت گرد حملے کیے تھے
تجزیے میں اس سوچ کو 9/11 کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے بارے میں پیدا ہونے والے ایک وسیع تر سیاسی اور نفسیاتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جس میں چند افراد کے جرائم کا بوجھ پوری مسلم آبادی پر ڈالنے کا رجحان نمایاں رہا ہے
اس کے برعکس ممدانی جیسے ترقی پسند سیاست دانوں کا ابھار اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کی ایک نئی نسل محض اپنے مذہبی تشخص کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ رہائش، مہنگائی، عوامی خدمات اور عام امریکی شہریوں کے بہتر مستقبل جیسے مسائل کو اپنی سیاسی ترجیحات کا مرکز بنا رہی ہے
یوں 9/11 کے 25 سال بعد نیویارک ایک ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف ماضی کے خوف اور تعصبات برقرار ہیں اور دوسری طرف وہ مسلم امریکی نسل موجود ہے جو اسی ملک کے مستقبل کی سیاست اور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے






