سینیٹ افسر کے خاندان کی بیرون ملک سیاسی پناہ کی انکوائری رپورٹ طلب

سینیٹ افسر کے خاندان کی بیرون ملک سیاسی پناہ کی انکوائری رپورٹ طلب

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو حکم دیا ہے کہ ایسے گریڈ 20 کے افسر سے متعلق انکوائری رپورٹ فراہم کی جائے جو مارچ 2024 میں جنیوا میں بین الپارلیمانی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے خاندان کے ہمراہ گیا تھا اور بعد میں اس کے خاندان نے ایک یورپی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی
یہ معاملہ شہری سہیل عبداللہ کی جانب سے دائر درخواست کے بعد سامنے آیا انہوں نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت سینیٹ سے اس واقعے کی حتمی انکوائری رپورٹ طلب کی تھی
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گریڈ 20 کا افسر سینیٹ کے وفد کا حصہ بن کر اپنے خاندان کے ہمراہ جنیوا گیا تھا، جس کے بعد خاندان کے افراد نے یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دی
سینیٹ سیکریٹریٹ نے رپورٹ فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹس آئینی ادارے ہیں اور ملازمین سے متعلق ریکارڈ خفیہ قرار دیا جا چکا ہے سیکریٹریٹ نے یہ بھی کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے
انفارمیشن کمیشن نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ رپورٹ سامنے آنے سے عدالت میں زیر سماعت معاملے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کمیشن نے یہ بھی کہا کہ جن احکامات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں ملازمین کے خلاف ہونے والی انکوائری رپورٹس کو واضح طور پر خفیہ قرار نہیں دیا گیا
کمیشن کے مطابق سینیٹ کے نمائندے نے تصدیق کی کہ متعلقہ افسر کے خلاف انکوائری مکمل ہو چکی ہے، تاہم اب تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی
انفارمیشن کمیشن نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سینیٹ سیکریٹری کو ہدایت کی کہ انکوائری رپورٹ 10 روز کے اندر درخواست گزار اور کمیشن کو فراہم کی جائے معاملے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے سماعت 6 اکتوبر 2026 تک ملتوی کر دی گئی

قومی خبریں سے مزید