موجودہ صوبائی نظام ناکام، کراچی سمیت نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
کراچی میں ایک اہم سیاسی اور سماجی اجلاس کے دوران پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے اور مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا مقررین نے کہا کہ موجودہ 4 صوبوں کا نظام بڑھتی ہوئی آبادی، تیزی سے پھیلتے شہروں اور مسلسل خراب ہوتی گورننس کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام ہو چکا ہے
اجلاس میں سیاسی رہنماؤں، سابق میئرز، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی مقررین کا کہنا تھا کہ اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر شہری مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، جبکہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کو پاکستان کی وحدت کے لیے خطرہ سمجھنا درست نہیں
وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہری سندھ کے لیے الگ انتظامی یونٹ کا مطالبہ ان کی جماعت سے بھی پہلے موجود تھا اور اس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انتظامی معاملات بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق صوبوں کی تنظیم نو انتظامی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے
خالد مقبول صدیقی نے سندھ میں مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر شفاف مردم شماری کرائی جائے تو پیپلز پارٹی بھی نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے لگے گی انہوں نے ان علاقوں میں ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی دی جہاں عوام نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق کراچی میئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ موجودہ 4 صوبوں کے ڈھانچے نے سیاسی جمود برقرار رکھا اور اختیارات چند خاندانوں تک محدود کر دیے انہوں نے سندھ کو کئی انتظامی علاقوں میں تقسیم کرنے اور کراچی کو خصوصی انتظامی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں اضافہ تو ہوا، لیکن اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے ان کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر کو موجودہ انتظامی طریقہ کار کے تحت چلانا ممکن نہیں رہا
سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کے سامنے موجودہ نظام برقرار رکھنے، مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات دینے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے سمیت کئی راستے موجود ہیں ان کے مطابق صوبائی حکومتیں مؤثر اور خودمختار مقامی حکومتیں قائم کرنے میں بار بار ناکام رہی ہیں
مقررین نے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منصوبہ بند آبادیوں، بنیادی سہولیات کی کمی اور شہری انفراسٹرکچر کے مسائل کے لیے ایسا انتظامی نظام ضروری ہے جس میں مقامی لوگوں کو اپنے علاقے کے فیصلوں میں حقیقی اختیار حاصل ہو
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے بھی اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے کی حمایت کی ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں شہری حکومتیں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور پولیس جیسے اہم معاملات سنبھالتی ہیں اور پاکستان میں بھی مقامی حکومتوں کو اسی طرح بااختیار بنانے کی ضرورت ہے
کاروباری رہنما عتیق میر نے کراچی کی معاشی اور شہری صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور اسے بہتر انتظامی ڈھانچے کی فوری ضرورت ہے انہوں نے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت کی
سابق بیوروکریٹ اور وکیل شہاب امام نے کہا کہ کراچی کے مقامی لوگوں کو روزگار، انتظامی فیصلوں اور وسائل میں ان کا آئینی حق ملنا چاہیے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں اور علاقوں کو بااختیار مقامی حکومتیں دے کر گورننس، جواب دہی اور عوامی خدمات کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے





