سعودی عرب کا آبنائے ہرمز سے بچنے کا متبادل تیل راستہ بھی حملے کی زد میں، عالمی سپلائی پر نیا خطرہ
ریاض: عالمی تیل کی سپلائی کے لیے سعودی عرب کے سب سے اہم متبادل راستے کو بھی نشانہ بنا دیا گیا ہے،سعودی عرب نے ڈرون حملوں کے بعد اپنی 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے، جو مشرقی سعودی عرب کے تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے،یہ راستہ اس وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا تھا جب جنگ اور آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹ کے باعث سعودی عرب نے اپنے تیل کی بڑی مقدار اسی زمینی راستے سے منتقل کرنا شروع کی تھی
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع ابقیق سے خام تیل مغرب کی جانب ینبع تک پہنچاتی ہے،اس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 7 ملین بیرل روزانہ ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری گنجائش پر اتنی مقدار روزانہ برآمد کی جا رہی تھی،سعودی عرب نے حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اس راستے کا استعمال نمایاں طور پر بڑھایا تھا
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق 10 ستمبر کو متعدد ڈرونز نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا،حملوں میں بعض افراد زخمی ہوئے اور تنصیبات کو نقصان پہنچا،سعودی حکام نے بتایا کہ ڈرونز عراق کی سرزمین سے آئے تھے،عراق نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عراقی حکومت کے مطابق حملوں کے عراق سے شروع ہونے کی تصدیق کے بعد ایک فوجی کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے،تاہم ابھی تک کسی گروپ نے باضابطہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
سعودی وزارت توانائی نے پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کیا ہے تاکہ ہنگامی اور تکنیکی ٹیمیں تنصیبات کی حفاظت، نقصان کا جائزہ اور نظام کی مکمل سلامتی یقینی بنا سکیں،اس کا مطلب یہ نہیں کہ پائپ لائن مستقل طور پر تباہ ہو گئی ہے، بلکہ فی الحال اس میں تیل کی ترسیل روک دی گئی ہے
سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کا زیادہ تر تیل مشرقی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے،معمول کے حالات میں خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنا پڑتا ہے
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کو اس جغرافیائی مجبوری سے جزوی طور پر آزاد کرتی ہے،مشرق میں پیدا ہونے والا خام تیل پائپ لائن کے ذریعے براہ راست بحیرہ احمر پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اسے بحری جہازوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھیجا جا سکتا ہے،اسی لیے اسے سعودی عرب کا آبنائے ہرمز کا اہم متبادل راستہ سمجھا جاتا ہے
حالیہ بحران میں سعودی عرب نے اس راستے کے ذریعے تقریباً 5 ملین بیرل روزانہ تک تیل منتقل کیا ہے، اگرچہ مختلف اعداد و شمار کے مطابق ینبع سے حقیقی برآمدات اس سے کم رہی ہیں،پائپ لائن کی مجموعی گنجائش تقریباً 7 ملین بیرل روزانہ ہے، جس میں سے کچھ حصہ سعودی عرب کی مغربی ساحلی ریفائنریوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے
اس پائپ لائن کی بندش اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے لیے ایک اہم متبادل راستہ پہلے ہی محدود ہو چکا ہے،دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کے علاقے میں بھی خطرات بڑھا دیے ہیں،حوثیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے کے قریب اسٹریٹیجک جزیرہ میون پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے
اس طرح سعودی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی کو ایک ہی وقت میں دو اہم جغرافیائی خطرات کا سامنا ہے،مشرق میں آبنائے ہرمز اور مغرب میں بحیرہ احمر و باب المندب
اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش طویل ہوتی ہے تو سعودی عرب کو اپنے تیل کی برآمد کے لیے محدود متبادل راستوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں مصر کے راستے سویز کینال یا سومید پائپ لائن بھی شامل ہیں،لیکن ان راستوں میں سے کوئی بھی فوری طور پر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی پوری صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں سعودی پائپ لائن پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ الزام فی الحال حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا اور کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
یوں یہ حملہ محض سعودی عرب کی ایک تیل تنصیب پر حملہ نہیں بلکہ عالمی تیل کی سپلائی کے ایک ایسے متبادل راستے کو نشانہ بنانے کا واقعہ ہے جسے خود سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے خطرے سے بچنے کے لیے استعمال کیا تھا،اگر یہ راستہ بھی طویل عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی تیل مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے





