برطانیہ میں آئندہ احتجاجی مظاہروں کے دوران چہرے ڈھانپنے پر پابندی، پولیس کو نئے اختیارات مل گئے

برطانیہ میں آئندہ احتجاجی مظاہروں کے دوران چہرے ڈھانپنے پر پابندی، پولیس کو نئے اختیارات مل گئے

برطانیہ میں آئندہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کو مظاہرین کے چہرے ڈھانپنے پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں یہ اقدام حالیہ مظاہروں میں بڑی تعداد میں نقاب پوش افراد کی شرکت کے بعد سامنے آیا ہے
حکام کے مطابق پولیس مخصوص احتجاجی اجتماعات میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کرسکے گی اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اختیار کا مقصد ایسے مظاہرین کی شناخت ممکن بنانا ہے جو تشدد، دھمکی یا دیگر جرائم میں ملوث ہوں اور چہرہ چھپا کر اپنی شناخت ظاہر ہونے سے بچنے کی کوشش کریں
یہ فیصلہ انگلینڈ کے ڈوور اور پورٹسماؤتھ میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے، جہاں نقاب پوش مظاہرین نے سڑکیں بند کیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ڈوور میں مظاہرین کی جانب سے بندرگاہ تک جانے والی سڑکیں روکنے کے باعث آمدورفت شدید متاثر ہوئی تھی
پورٹسماؤتھ میں بھی سیکڑوں نقاب پوش مظاہرین نے پناہ کے متلاشی افراد کی آمد کے خلاف احتجاج کیا پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا، جبکہ بعض پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ مظاہروں کے دوران دستیاب تمام قانونی اختیارات استعمال کرے اور نقاب پوش مظاہرین سے نمٹنے کے لیے بہتر انتظامات کرے پولیس کو چہرے کی شناخت، نگرانی کے کیمروں اور جسم پر نصب کیمروں سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے
حکومت کا مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج کا حق برقرار رہے گا، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد، دھمکی، سڑکوں کی بندش اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی حالیہ واقعات کے بعد پولیس کی تیاری اور مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید